خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 498 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 498

خطبات مسرور جلد 11 498 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 ستمبر 2013ء تازہ کر دیا ہے۔ہمیں اللہ تعالیٰ اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد میں بڑھایا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اپنے بہن بھائیوں سے محبت کرنے کی تعلیم کے مطابق ہمیں اس میں زیادہ کیا ہے۔نیز احمدی مسلم کے طور پر ہماری ایمانی بنیادوں کو پہلے سے مضبوط کیا ہے اور اس طرح ہمارے برداشت کے مادے کو بڑھایا ہے۔تو یہ جو نئے احمدی ہونے والے ہیں وہ اس طرح ایمان و اخلاص میں ترقی کر رہے ہیں۔چلی سے ایک نوجوان دوست کا ئیفل تو ریس صاحب ( Jussuf Caifl Torres) جلسه میں شامل ہوئے۔یہ پہلی بار آئے تھے۔کہنے لگے کہ جلسہ سالانہ یوکے(UK) میں شمولیت میرے لئے روحانی مسرت اور خوشی کا باعث تھی۔اگر چہ میرے والد مصری مسلمان تھے مگر والدہ چاتی سے تھیں۔میرے والد صاحب نے بچپن میں جو اسلام سکھا یا تھا وہ میں بھول چکا تھا اور میں بالکل مایوس ہو چکا تھا۔( یہ خاندان کئی نسلوں سے چلی میں آباد ہے۔) کہتے ہیں کہ احمدی مبلغ وہاں چکی میں پمفلٹ تقسیم کر رہا تھا۔اس دوران میری اس مبلغ سے ملاقات ہوئی۔مبلغ نے مجھے احمدیت حقیقی اسلام سے تعارف کروایا اور میں نے بیعت کر لی۔اب جلسہ سالانہ یو کے میں شمولیت میرے لئے بہت زیادہ از دیادِ ایمان کا باعث بنی ہے۔میں اب اپنے آپ کو حقیقی مسلمان یقین کرتا ہوں اور اس جذبے کے ساتھ واپس جا رہا ہوں کہ اپنے ملک میں احمدیت کی تبلیغ کروں گا۔پانامہ سے ایک نو مبائع دانتے ارنستو گارسیا صاحب (Dante Ernesto Garcia) آئے تھے اور پانامہ سے جلسہ میں اس دفعہ پہلی دفعہ نمائندگی ہوئی ہے۔کہتے ہیں کہ جلسہ میں بہت کچھ سیکھا۔اس جلسہ میں شمولیت کر کے میرے ایمان میں اضافہ ہوا۔جو بھائی چارہ میں نے یہاں دیکھا ہے وہ اسلام میں کہیں نہیں دیکھا۔میں یہاں آکر بہت مطمئن ہوا ہوں اور دل کو تسلی ہوئی ہے۔میں اس بات پر فخر کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے احمدیت قبول کرنے کی سعادت عطا فرمائی۔جلسہ کے دوران مجھے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد سے ملاقات کا موقع ملا جن کا تعلق مختلف اقوام سے تھا۔ان سے ایمان افروز واقعات سن کر میرے ایمان میں اضافہ ہوا اور میں اس بات کا وعدہ کرتا ہوں کہ اپنے ملک پانامہ میں دعوت الی اللہ کر کے لوگوں کو احمدی بنانے کی کوشش کروں گا۔کہتے ہیں جلسہ میں بہت بڑی تعداد شامل تھی۔لوگ تو بے شمار تھے لیکن لگتا تھا کہ سب کا ایک ہی دل دھڑک رہا ہے۔جسم تو تیس ہزار ہیں لیکن دل ایک تھا۔