خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 496
خطبات مسرور جلد 11 496 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 ستمبر 2013ء ساری عمر نہ بھولوں گا۔ایسا ڈسپلن اور اطاعت کا معیار میں نے کبھی نہیں دیکھا اور نہ سنا۔بیلچہ سے افریقہ کے ایک دوست جو بڑے عرصے سے وہیں رہ رہے ہیں، بن طیب ابراہیم (Ben Tayab Ibrahim) وہ جلسہ میں شامل ہوئے۔ایم ٹی اے کے ذریعہ سے ان کا جماعت سے تعارف ہوا تھا اور پروگراموں میں انہوں نے شرکت کی، یورپین مہمانوں کے لئے علیحدہ مارکی میں کھانے کا انتظام ہوتا تھا لیکن اس کے باوجود وہ جنرل مارکی میں کھانا کھانے کے لئے جاتے تھے اور عالمی بیعت اور باقی سب خطابات سے بڑے متاثر ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیعت میں شامل ہو کے جماعت میں داخل ہو گئے۔بھیجیم سے ایک اور دوست سانی نووہ (Sani Novho) بھی جلسہ میں شامل ہوئے۔موصوف تنجیم میں موجود نائیجر کمیونٹی کے ممبر ہیں۔اس کمیونٹی کا اپنا سینٹر ہے۔انہوں نے اپنا ایک نمائندہ بھیجا کیونکہ ان کی کمیونٹی کے لوگ احمدیت کی طرف آ رہے ہیں اور احمدیت قبول کر رہے ہیں۔جلسہ سالانہ جرمنی کے موقع پر ان کے بائیس افراد نے بیعت کی تھی۔برسلز میں موجود ان کے سینٹر میں ممبرز کی تعداداب کم ہوتی جارہی ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں یہ لوگ شامل ہوتے جار ہے ہیں۔کمیونٹی کی جو انتظامیہ ہے اُس نے موصوف کو اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا تھا کہ وہ یہاں آ کر دیکھیں کہ کس طرح کی جماعت ہے اور کیا وجہ ہے کہ ہمارے لوگ ہمیں چھوڑ کر اُن کے ساتھ شامل ہو رہے ہیں۔چنانچہ یہ صاحب جب جلسہ میں شامل ہوئے اور جو ذہن لے کر آئے تھے کہ جماعت کی غلطیاں اور خامیاں تلاش کرنی ہیں تا کہ واپس جا کر لوگوں کو کہہ سکیں کہ تم جس جماعت میں شامل ہوتے ہو، اُن کے فلاں فلاں غلط عقائد ہیں اور ان کے اندر فلاں فلاں خامیاں موجود ہیں۔موصوف نے جلسہ کی تمام کارروائی سنی، روزانہ شام کو مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی تو اس سے اُن کی کافی تسلی ہوتی اور میرے سے بھی تھوڑی دیر کے لئے ان کی بات ہوئی تھی۔انہوں نے بتایا کہ مجھے پورے جلسہ میں کوئی بھی غیر اسلامی بات نظر نہیں آئی۔اور پھر کہتے ہیں کہ آپ کے خطابات کا مجھ پر بڑا اثر ہوا۔میں جلسہ میں شامل ہو کر بہت خوش ہوں۔آپ کا جلسہ ایک غیر معمولی ایونٹ (event) ہے اور میں تمام کارکنان اور خدمت کرنے والوں کے اخلاص اور محبت سے بہت متاثر ہوں۔تاجکستان جماعت کے صدر عزت امان کو اس سال جلسہ میں شمولیت کی توفیق ملی۔یہ شاید پہلے بھی آچکے ہیں۔بہر حال کہتے ہیں کہ جلسہ سالانہ کے بارے میں میں عرض کرتا ہوں کہ جو دیکھا ہے وہ الفاظ میں بیان ہی نہیں کیا جا سکتا۔اگر کسی طرح الفاظ میں جلسہ سالانہ کی تصویر کشی کی جاسکتی ہے تو صرف یہ ہی