خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 487
خطبات مسرور جلد 11 487 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 اگست 2013ء تھا کہ ہماری روٹی تازہ ہوتی ہے اور صرف پانچ چھ گھنٹے کا وقفہ ہوتا ہے۔لیکن ساتھ ہی ایک خاتون کی فیکس بھی آئی ہوئی تھی کہ آپ نے بڑا صحیح کہا روٹی باسی تھی اور کھانے کے قابل نہیں تھی۔لیکن بہر حال لگتا ہے دونوں طرف کچھ تھوڑا سا مبالغہ ہو گیا۔روٹی اتنی باسی بھی نہیں ہوتی اور اللہ کے فضل سے کھانے کے قابل بھی ہوتی ہے۔اس لئے مہمانوں کو بھی برداشت کرنا چاہئے۔ویسے تو عام ہر احمدی کو پتہ ہی ہے لیکن یہ بات میں نے اس لئے کر دی ہے تا کہ انتظامیہ کو مزید علم ہو جائے کہ ہر چھوٹی سی جو بات ہے، کوئی بھی چھوٹی چھوٹی اونچ نیچ جو ہے وہ احمدی فوراً مجھے پہنچا دیتے ہیں۔ایک اہم بات جو عموما مہمانوں کے لئے کم و بیش ہر سال کہی جاتی ہے لیکن اب حالات کی وجہ سے ایسے مسائل سامنے آنے لگ گئے ہیں۔اس لئے خاص طور پر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ برطانوی حکومت جلسے کے لئے جو ویزے دیتی ہے، عموماً یہ ویزا چھ مہینے کے لئے لگتا ہے اور اس پر double entry یا multiple entry لگا دی جاتی ہے اور جلسے کا ویزا اس سوچ کے ساتھ یا اس شرط کے ساتھ دیا جاتا ہے کہ اس ویزے کو اسائلم کے لئے استعمال نہیں کرنا یا جماعتی طور پر جب ہم اپنے نمائندے کے لئے ویزا لیتے ہیں تو ہمارے سے یہی understanding ہوتی ہے کہ یہ لوگ دوسری مرتبہ ویزے کو استعمال نہیں کریں گے اور اسائلم کے لئے استعمال نہیں کریں گے۔اس دفعہ بعض جماعتی نمائندوں کو ویزے دینے سے انکار کیا گیا اور جب ہم نے رابطہ کیا تو گو وہ ویزا دینے پر مان تو گئے لیکن انہوں نے شکوہ کیا کہ ایک دو ایسے تھے اور اس کے علاوہ بھی بہت سارے لوگ ایسے ہیں جو جلسے کا ویزا لے کر آتے ہیں اور پھر اس کو دوبارہ استعمال کر کے اس علم لے لیتے ہیں۔کیونکہ اُس پر double entry لگی ہوتی ہے۔ایک دفعہ تو چلے جاتے ہیں لیکن دوبارہ آ جاتے ہیں۔بہر حال ان سرکاری محکموں کی تو ہم نے تسلی کروائی ہے۔جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ کے فضل سے ویزے مل بھی گئے ہیں لیکن پریشانی کا سامنا بہر حال انہیں کرنا پڑا اور بہت سارے ایسے لوگوں کی وجہ سے کرنا پڑا جن کی نیت ہی یہ ہوتی ہے کہ جائیں گے تو اُس ویزے کو اسائلم کے لئے استعمال کر لیں گے۔ایسے لوگوں کو گو جماعتی طور پر تعزیر بھی ہو جاتی ہے لیکن جماعت کی جو ساکھ ہے وہ تو بہر حال خراب ہوتی ہے۔اس کا ہر احمدی کو خیال رکھنا چاہئے۔اور پھر جو لوگ خالصہ جلسہ میں شامل ہونے کے لئے آنا چاہتے ہیں اور یہ اُن کی نیت ہوتی ہے تو اُن کے لئے بھی ایسے لوگوں کے عمل روک بن جاتے ہیں۔بے شک پاکستان کے حالات ایسے ہیں کہ احمدی انتہائی مشکل کی زندگی وہاں گزار رہے ہیں۔ملازمتوں میں تنگ کیا جاتا ہے۔مالکان باوجود اس کے کہ احمدی ملازم کے کام پر انہیں تسلی بھی