خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 460
خطبات مسرور جلد 11 460 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 اگست 2013ء پس ہر احمدی کو چاہئے کہ آپ کی کتب کو پڑھے۔انگریزی دان جو ہیں یا جن کو اردو زبان نہیں آتی ان کے لئے دوسرے ملکوں میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے مختلف زبانوں میں اتنا لٹریچر موجود ہے کہ جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کا مقصد اور آپ کو ماننا کیوں ضروری ہے اس بارے میں وضاحت سے موجود ہے۔اپنے عقیدے کو مضبوط اور پختہ کرنے کی ہر ایک کو ضرورت ہے۔اعتراض کرنے والوں کے اعتراضوں کے جواب دیں۔خود تیاری کریں گے تو علم بھی حاصل ہوگا اور اعتراضوں کے جواب بھی تیار ہوں گے۔اس کے لئے بھی علاوہ اس کے کہ ہر شخص خود کرے، جماعتی نظام کو بھی اور ذیلی تنظیموں کو بھی اپنے پروگرام بنانے چاہئیں کہ کس طرح ہم اس بارے میں ہر فرد تک یہ تعلیم پہنچا دیں کہ آپ کی بعثت کی غرض کیا ہے اور آپ کو ماننا کیوں ضروری ہے؟ یہ تو عقیدے کی بات ہو گئی جو میں نے کر دی ہے۔دوسری بات تربیت کی ہے اور وہ افراد جماعت کا خلافت کے ساتھ تعلق ہے۔خلافت کے ساتھ تعلق میں آج کل اللہ تعالیٰ کے فضل سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایم ٹی اے کا بھی ایک ذریعہ دیا ہوا ہے۔اسی طرح alislam ویب سائٹ ہے۔پس ان سے بھی جوڑنے کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ہر احمدی کو نو جوان کو، مرد ہو عورت ہو جوڑنے کی کوشش کریں اور نظام جماعت کو بھی اور ذیلی تنظیموں کو بھی یہ کوشش کرنی چاہئے۔مخلصین اور باوفا مخلصین کی بہت بڑی تعداد ہے جو بڑی کوشش سے آتے ہیں اور یہاں مسجد میں آ کر بھی خطبہ سنتے ہیں اور دنیا میں مختلف جگہوں پر ایم ٹی اے کے ذریعہ سے بھی سنتے ہیں اور باقاعدگی سے سنتے ہیں، بلکہ بعض ایسے بھی ہیں جو مجھے لکھتے ہیں کہ دو تین دفعہ سنتے ہیں۔لیکن ایک ایسی تعداد ہے جو نہیں سنتی۔یہاں یوکے(UK) میں ہی ایسے لوگ ہیں جو خطبات نہیں سنتے اور نہ ہی دوسرے پر وگرام دیکھتے ہیں بلکہ وہ بعض پروگراموں میں شامل بھی نہیں ہوتے۔ایک جماعت میں کافی تعداد میں لوگوں نے خلاف تعلیم سلسلہ بعض حرکتیں کیں جس کی وجہ سے مجبوراً اُن پر کچھ پابندیاں عائد کی گئیں۔جب مزید تحقیق کی تو پتہ چلا کہ اُن میں سے اکثریت ایسی ہے جو خطبات نہیں سنتے ، یا جن کا جماعت میں زیادہ تر actively آنا جانا نہیں ہے، نہ جماعتی پروگراموں میں شامل ہوتے ہیں لیکن جماعت کے ساتھ تعلق کیونکہ اُن کے خون میں تھا اس لئے جب اُن پر پابندیاں لگیں، اُن کو تھوڑی سی سزا دی گئی تو پریشان بھی ہو گئے اور انتہائی فکر اور درد سے مجھے معافی کے خط بھی لکھنے لگ گئے۔بعض مجھے ملے بھی تو اُس وقت بھی روتے تھے۔اگر وہ صرف دنیا دار ہی ہوتے تو یہ حالت نہ ہوتی۔پس ایسے بھی ہیں جو دنیا کے کاروباروں کی وجہ سے لا پرواہ ہو جاتے ہیں اور جب اُنہیں توجہ دلائی جاتی ہے تو پھر انہیں شرمندگی کا