خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 453
خطبات مسرور جلد 11 453 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 اگست 2013ء شریف میں تقویٰ کو لباس کے نام سے موسوم کیا ہے۔چنانچہ لِبَاسُ التَّقویٰ قرآن شریف کا لفظ ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ روحانی خوبصورتی اور روحانی زینت تقویٰ سے ہی پیدا ہوتی ہے اور تقویٰ یہ ہے کہ انسان خدا کی تمام امانتوں اور ایمانی عہد اور ایسا ہی مخلوق کی تمام امانتوں اور عہد کی حتی الوسع رعایت رکھے، یعنی اُن کے دقیق در دقیق پہلوؤں پر تابمقدور کار بند ہو جائے۔“ ( ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 209-210) خدا کرے کہ تقویٰ پر چلتے ہوئے ہم خدا تعالیٰ کے احکامات پر بھی عمل کرنے والے ہوں اور اپنے تمام عہدوں کو بھی نبھانے والے ہوں۔اور اس رمضان میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے جو ہم نے کوششیں کی ہیں، اُن پر مستقل مزاجی سے قائم رہنے والے ہوں۔آج کا جمعہ ہم جمعۃ الوداع سمجھ کر، پڑھ کر اور رمضان کے روزے رکھ کر ، رمضان کے مہینے میں نیکیاں کر کے اور یہ سمجھ کر کہ بس کافی ہو گیا، چھوڑ نہ دیں، بلکہ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مومن وہی ہے جو مستقل مزاجی سے ان نیکیوں پر عمل کرتا اور اپنے عہدوں کو پورا کرتا ہے۔اللہ کرے کہ یہ رمضان ہمیں بے شمار برکات کا حامل بنا کر جائے اور قرآنِ کریم میں دیئے گئے خدا تعالیٰ کے جو احکامات ہیں اُن کا پہلے سے بڑھ کر ہم میں ادراک پیدا ہو۔یہ چند احکامات کی مثالیں میں نے دی ہیں اس لئے کہ ہم میں سے ہر ایک کو اس کی تلاش کرنی چاہئے تبھی ہم حقیقی رنگ میں اُن لوگوں میں شمار ہو سکتے ہیں جنہوں نے رمضان کا فائدہ اُٹھایا۔اللہ کرے کہ ہم میں سے اکثریت ایسی ہو جس نے یہ فائدہ اُٹھایا ہو اور آئندہ اُٹھاتی چلی جائے۔الفضل انٹر نیشنل جلد 20 شماره 35 - 36 مورخہ 30 اگست تا 12 ستمبر 2013 ، صفحہ 5 تا صفحه 8)