خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 443
خطبات مسرور جلد 11 443 فیصلہ کرواتا ہے تو ایسا ہی ہے جیسا میں اُسے آگ کا ٹکڑا دلوا رہا ہوں۔خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 اگست 2013ء (مسند احمد بن حنبل جلد 8 صفحه 642-643 حديث أم سلمة زوج النبی صلی اللہ علیہ وسلم حدیث نمبر 27253 عالم الكتب بيروت 1998ء) پس جھوٹے بیان اور جھوٹی گواہیاں دے کر آگ کے ٹکڑے حاصل کرنے سے ہر ایک کو بچنا چاہئے۔حقیقی مومن وہی ہے جو اس سے بچے۔سورۃ نساء کی یہ آیت جو میں نے پڑھی تھی اس میں آگے پیچھے عائلی معاملات کے احکامات بھی آتے ہیں۔پس وہ لوگ جو خاوند ہو یا بیوی ہو خاص طور پر اپنے ناجائز حقوق لینے کی کوشش کرتے ہیں، اسی طرح طلاق کی صورت میں خلع کی صورت میں مرد یا عورت کے عزیز یا رشتہ دار غلط گواہی دے کر بعض ناجائز فائدے اُٹھانے کی کوشش کرتے ہیں، وہ عدل کا خون کر رہے ہوتے ہیں۔اس طرح وہ اس سے دنیاوی عارضی فائدہ تو اُٹھا لیتے ہیں لیکن جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا آگ کا ٹکڑا ہے جو وہ لے رہے ہوتے ہیں جو قیامت کے دن پھر بد انجام کی طرف لے جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس طرح فریقین بھی اور گواہان بھی اپنی خواہشات کی پیروی کر کے عدل سے دُور جارہے ہیں۔پس خواہشات کی پیروی نہ کرو، بلکہ عدل قائم کرنے کی کوشش کرو، انصاف قائم کرنے کی کوشش کرو۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَاِنْ تَلُوا اَوْ تُعْرِضُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا (النساء: 136) اور اگر تم نے گول مول بات کی یا پہلو تہی کر گئے تو یقینا اللہ جو تم کرتے ہواُس سے باخبر ہے۔پس یہ جھوٹی گواہیاں فیصلہ کرنے والے انسان کو تو دھوکہ دے سکتی ہیں۔جس کے پاس معاملہ ہے اُس کو دھو کہ دے سکتی ہیں۔اُس سے اپنے حق میں اور دوسرے کے خلاف یا خلاف انصاف فیصلہ کرواسکتی ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ جو باخبر ہے اُسے ہم دھوکہ نہیں دے سکتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر صاف اور سیدھی بات کہنے کی طرف، جو قرآنی حکم ہے، اسی لئے تو جہ دلوائی ہے کہ رشتے طے کرتے وقت بھی ، آپس میں زندگی گزارتے وقت بھی اور اگر کوئی مسئلہ پیدا ہو تو اُس وقت بھی قُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا (الاحزاب : 71) سے کام لو اور اس کو کبھی نہ چھوڑو۔اس کا چھوڑ نا تمہیں تقویٰ سے دُور لے جائے گا۔یہ تمہیں عدل اور انصاف سے دُور لے جائے گا۔یہ معاشرے میں فساد کا ذریعہ اور باعث بنے گا۔ہمارے قضاء میں بھی جب خلع اور طلاق کے معاملات آتے ہیں تو بعض میں خود بھی دیکھتا ہوں