خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 442
خطبات مسرور جلد 11 442 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 اگست 2013ء اگر تم نے گول مول بات کی یا پہلو تہی کر گئے تو یقینا اللہ جوتم کرتے ہو، اُس سے بہت باخبر ہے۔یہاں گواہیوں کے بارے میں ایک اصولی بات بیان ہوگئی کہ تمہاری گواہیاں خالصہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کو مد نظر رکھتے ہوئے ہونی چاہئیں اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کے تابع ہونی چاہئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ: ”حق اور انصاف پر قائم ہو جاؤ۔اور چاہئے کہ ہر ایک گواہی تمہاری خدا کے لئے ہو۔“ اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد 10 صفحه 361) پس دنیا میں عدل اور انصاف قائم کرنے کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہو۔اس کے علاوہ کبھی وہ اعلیٰ معیار قائم ہوہی نہیں سکتا جو دنیا سے نا انصافی اور ذاتی غرضوں کے حصول کو ختم کر سکے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک اور جگہ فرمایا کہ: ” تمام قومی کا بادشاہ انصاف ہے۔اگر یہ قوت ہی انسان میں مفقود ہے تو پھر سب سے محروم ہونا پڑتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 24 مطبوعہ ربوہ) پس عدل وانصاف کا وصف انسان میں ہونا اُس کی خوبیوں کو روشن تر کر دیتا ہے۔اس آیت میں جو تفصیل بیان ہوئی ہے، اگر اس پر عمل ہو یعنی انصاف قائم کرنے کے لئے انسان اپنے خلاف گواہی دینے سے بھی گریز نہ کرے، اپنے والدین کے خلاف گواہی دینے سے بھی گریز نہ کرے اور قریبیوں کے خلاف بھی گواہی دینے سے نہ رُکے تو ایک حسین معاشرہ قائم ہو جاتا ہے جس کی مثال نہیں مل سکتی۔جب فریقین میں مسئلہ پیدا ہو تو گواہیوں کی ضرورت پیش آتی ہے۔ایسی صورت میں یا خود فریقین سے اپنے اپنے بیان دینے کے لئے کہا جاتا ہے یا بعض گواہوں کو پیش کیا جاتا ہے تاکہ مسئلہ کی حقیقت واضح ہوا اور فیصلہ کرنے اور عدل وانصاف کرنے میں آسانی پیدا ہو۔اگر گواہیاں ہی جھوٹی ہوں، اپنے بیانوں کو توڑ مروڑ کرنا جائز حق لینے کے لئے پیش کیا جارہا ہو تو پھر ہوسکتا ہے کہ فیصلہ کرنے والے کا فیصلہ بھی صحیح نہ ہو۔صرف یہ نہیں کہ صحیح نہ ہو بلکہ بہت زیادہ غلط بھی ہو سکتا ہے اور ایسی صورت میں پھر گناہ گواہیاں دینے والوں کے سر ہے، فیصلہ کرنے والے کے سر نہیں ہے۔بعض گواہ اپنے ذاتی فائدے کے لئے نہیں تو اپنے عزیزوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے غلط گواہی دے جاتے ہیں۔فیصلہ کرنے والے ادارے کو غلط راستہ پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں اور پھر نتیجہ گناہگار بنتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی غلط بیان دے کر میرے سے بھی غلط