خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 441 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 441

خطبات مسرور جلد 11 441 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 اگست 2013ء کیتھولک عیسائی ہیں، پروفیسر ہیں، سکالر ہیں۔انہوں نے ڈیلی ٹیلیگراف ( Daily Telegraph) میں گزشتہ دنوں مضمون لکھا جس میں اسلام اور مسلمانوں کی تعریف کی اور ایتھی ازم (Atheism) کے خلاف اور یہاں جو قومیت پسند تنظیمیں ہیں اُن کے خلاف باتیں کیں اور یہ لکھا کہ مسلمانوں کی جو اعلیٰ روایات ہیں، اعلیٰ تعلیمات ہیں ان کو قائم رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔آجکل مذہب اور اسلام پر اعتراض کرنے والے زیادہ تر یہی لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کے وجود سے منکر ہیں۔بہر حال جیسا کہ میں نے کہا یہ کام تو آج ہمارا ہے کہ دین کی ضرورت اور زندہ خدا کے وجود کو دنیا پر ثابت کریں۔کیونکہ ایک حقیقی مسلمان ہی اس کام کو سر انجام دے سکتا ہے اور زمانے کے امام سے جڑ کر احمدی ہی اسلام کی حقیقی تعلیم کو سمجھنے والے اور اُسے دنیا میں پھیلانے والے ہیں اور ہونے چاہئیں۔اور یہ کام قرآن کریم کی تعلیم اور احکامات پر عمل کرنے سے ہی ہوسکتا ہے۔جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ آج اُن دو احکامات کے بارے میں کچھ کہوں گا جن کا اُس فہرست میں ذکر ہے جو سورۃ انعام کی آیات 152 اور 153 میں بیان ہوئی ہیں ، اور جو میں گزشتہ چند خطبوں سے ذکر کر رہا ہوں۔ان میں سے آج بیان ہونے والی باتوں میں پہلی بات عدل و انصاف سے متعلق۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا وَلَوْ كَانَ ذَا قُربى (الانعام : 153 ) اور جب تم کوئی بات کرو تو انصاف کی بات کرو۔چاہے وہ شخص کتنا ہی قریبی ہوجس کے متعلق بات کی جارہی ہے۔عدل کی مختلف صورتیں ہیں اور اس بارے میں قرآن کریم میں مختلف جگہوں پر تفصیلی احکامات بھی ہیں۔اس گواہی کو جو قریبیوں کے بارے میں دی جانی ہے، اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ مزید کھول کر بیان فرمایا ہے جس میں قریبی ہی نہیں بلکہ خود گواہی دینے والے کو بھی شامل فرمایا ہے۔اور والدین کو بھی شامل فرمایا ہے۔سورۃ نساء کی آیت 136 ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ إِنْ يَكُنْ غَنِيًّا أَوْفَقِيرًا فالله أولى بِهِمَا فَلا تَتَّبِعُوا الْهَوَى اَنْ تَعْدِلُوا - وَإِنْ تَلُوا أَوْ تُعْرِضُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا (النساء: 136) اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر گواہ بنتے ہوئے انصاف کو مضبوطی سے قائم کرنے والے بن جاؤ خواہ خود اپنے خلاف گواہی دینی پڑے، یا والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف۔خواہ کوئی امیر ہو یا غریب، دونوں کا اللہ ہی بہتر نگہبان ہے۔پس اپنی خواہشات کی پیروی نہ کرو۔یہ نہ ہو کہ عدل سے گریز کرو۔اور