خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 417
خطبات مسرور جلد 11 417 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 جولائی 2013ء سب سے پہلے خدا تعالیٰ نے جس بات کی طرف توجہ دلائی ہے، بلکہ حکم دیا کہ ایسی بات کبھی تم سے سرزد نہ ہو۔تم پر یہ حرام ہے کہ خدا تعالیٰ کا شریک کسی کو ٹھہراؤ۔اُس ہستی کے ساتھ تم شریک ٹھہراؤ جو تمہارا رب ہے، جو تمہارا پیدا کرنے والا ہے، جو تمہاری دماغی ، جسمانی ، ماڈی، روحانی صلاحیتوں کی پرورش کرنے والا ہے، جو تمام نعمتوں کو مہیا کرنے والا ہے۔پس کون عظمند ہے جو ایسی طاقتوں کے مالک خدا اور ایسی نعمتیں مہیا کرنے والے خدا کا کسی کو شریک بنائے۔لیکن لوگ سمجھتے نہیں اور شریک بناتے ہیں۔گہرائی میں جا کر شرک کے مفہوم کو نہیں سمجھتے اور ایسے عظیم خدا کے مقابلے پر خدا کھڑے کرتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔ہر زمانے میں لوگوں میں یہ حالت پیدا ہوتی رہی ہے۔اسی لئے انبیاء جب آتے ہیں تو سب سے پہلے شرک کی تعلیم کے خلاف بات کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ شرک ایسا گناہ ہے کہ اس کو میں نہیں بخشوں گا۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام توجہ دلاتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : ہر ایک گناہ بخشنے کے قابل ہے مگر اللہ تعالیٰ کے سوا اور کومعبود و کارساز جاننا ایک نا قابل عفو گناہ ہے۔یعنی یہ معاف نہیں ہوگا۔اِنَّ الشَّرُكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ (لقمان:14) لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ (النساء : 49) یہاں شرک سے یہی مراد نہیں کہ پتھروں وغیرہ کی پرستش کی جاوے۔بلکہ یہ ایک شرک ہے کہ اسباب کی پرستش کی جاوے اور محبوبات دنیا پر زور دیا جاوے۔دنیا میں جو بہت ساری چیزیں، جن سے انسان فائدہ اُٹھاتا ہے، اُن کی طرف توجہ ہو جائے۔اسی کا نام شرک ہے۔اور معاصی کی مثال یعنی گناہ جو ہیں، عام گناہ اُن کی مثال تو حقہ کی سی ہے کہ اس کے چھوڑ دینے سے کوئی دقت ومشکل کی بات نظر نہیں آتی۔مگر شرک کی مثال افیم کی ہے کہ وہ عادت ہو جاتی ہے جس کا چھوڑ نا محال ہے۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 344 مطبوعہ ربوہ ) پھر ہمیں توجہ دلاتے ہوئے ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔آپ نے مزید گہرائی میں جا کر بتایا کہ: شرک تین قسم کا ہے۔اول یہ کہ عام طور پر بت پرستی ، درخت پرستی وغیرہ کی جاوے۔بعض لوگ درختوں کی پوجا بھی کرتے ہیں۔یہ سب سے عام اور موٹی قسم کا شرک ہے۔دوسری قسم شرک کی یہ ہے کہ اسباب پر حد سے زیادہ بھروسہ کیا جاوے کہ فلاں کام نہ ہوتا تو میں ہلاک ہو جا تا۔یہ بھی شرک ہے۔تیسری قسم شرک کی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے وجود کے سامنے اپنے وجود کو بھی کوئی شے سمجھا جاوے“۔یعنی میں