خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 410 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 410

خطبات مسرور جلد 11 410 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 جولائی 2013ء انتہائی عاجز ہو کر انسان خدا تعالیٰ کے در پر گرے تو خدا تعالیٰ کی مدد شامل حال ہوتی ہے۔اور خدا تعالیٰ نے جو بندوں کے حقوق بتائے ہیں اُن کی ادائیگی کی طاقت بھی خدا تعالیٰ سے مانگو اور وسعت حوصلہ دکھاؤ تو خدا تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ٹھہرو گے۔پس ہر سطح کے معاملات میں اور عبادات کی ادائیگی میں اللہ تعالیٰ کا فضل جذب کرنے کے لئے عاجزی انتہائی ضروری ہے۔جب یہ ہوگا تو خدا تعالیٰ دنیا وی نقصانوں سے بھی بچائے گا، دشمنوں کے خلاف بھی مدد دے گا، روحانیت میں بھی ترقی ہوگی ، معاشرتی تعلقات میں بھی حسن پیدا ہو گا اور انسان خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والا بھی بنے گا اور یہی ایک مومن کی خواہش ہوتی ہے اور ہونی چاہئے۔پس ہمیں چاہئے کہ اس رمضان میں ہم اپنے جائزے لیں اور اُن تمام باتوں اور عنوانات کے تحت اپنے جائزے لیں جو میں نے بتائے ہیں کہ کس حد تک اس رمضان میں ہم نے اپنی حالتوں کو خدا تعالیٰ کی بتائی ہوئی تعلیم کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔اور اس طرف قدم بڑھانے شروع کر دیئے ہیں۔ورنہ جیسا کہ میں نے کہا رمضان ہر سال آتا ہے اور آتا رہے گا اور جب تک زندگی ہے، ہم ہر سال اس میں سے گزرتے ہوئے قرآنِ کریم کے اس مہینے میں نازل ہونے کی علمی بحث سنتے رہیں گے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں ھدی للناس“ کہہ کر اس طرف توجہ دلائی ہے کہ صرف اس کی سطح تک ہی نہ رہو، اپنے آپ کو صرف سطح پر ہی نہ رکھو، صرف علمی بحثوں میں نہ اُلجھے رہو کہ قرآنِ کریم نازل ہوا تو اُس کا کیا مطلب ہے یا کیا نہیں ہے؟ بلکہ گہرائی میں جا کر اس ہدایت کے موتی تلاش کر کے اُنہیں اپنی دنیا اور آخرت سنوارنے کا ذریعہ بناؤ۔وو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ یا درکھو قرآن شریف حقیقی برکات کا سر چشمہ اور نجات کا سچا ذریعہ ہے۔یہ اُن لوگوں کی اپنی غلطی ہے جو قرآن شریف پر عمل نہیں کرتے۔عمل نہ کرنے والوں میں سے ایک گروہ تو وہ ہے جس کو اس پر اعتقاد ہی نہیں اور وہ اس کو خدا تعالیٰ کا کلام ہی نہیں سمجھتے۔یہ لوگ تو بہت دُور پڑے ہوئے ہیں لیکن وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور نجات کا شفا بخش نسخہ ہے، اگر وہ اس پر عمل نہ کریں تو کس قدر تعجب اور افسوس کی بات ہے۔اُن میں سے بہت سے تو ایسے ہیں جنہوں نے ساری عمر میں کبھی اُسے پڑھا ہی نہیں۔پس ایسے آدمی جو خدا تعالیٰ کے کلام سے ایسے غافل اور لا پرواہیں اُن کی ایسی مثال ہے کہ ایک شخص کو معلوم ہے کہ فلاں چشمہ نہایت ہی مصطفی اور شیر میں اور بنک ہے اور اُس کا پانی بہت سی امراض