خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 409
خطبات مسرور جلد 11 409 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 جولائی 2013ء بہت سے جھگڑوں کی بنیاد یہ تکبر ہی ہے۔جس میں تکبر نہیں اور تکبر کی وجہ سے جھوٹی آنا نہیں اُس کے معاملات بھی کبھی نہیں الجھتے۔یہ تکبر ہے جو ضد کی طرف لے جاتا ہے۔اور آنا اور ضد پھر معاملات کو سلجھانے کی بجائے طول دینا شروع کر دیتے ہیں، الجھانا شروع کر دیتے ہیں۔آجکل بہت سے جھگڑے جو میرے سامنے آتے ہیں، اُن معاملات میں سے اکثریت صرف اس لئے نہیں سمجھ رہی ہوتی کہ تکبر، آنا اور ضد آڑے آ رہی ہوتی ہے۔پس اگر انسان کو خدا تعالیٰ کی محبت کی ضرورت ہے، اگر ایک مسلمان یہ سمجھتا ہے اور جب میں مسلمان کہتا ہوں تو سب سے پہلے ہم احمدی مسلمان اس کے مخاطب ہیں، تو پھر ان باتوں سے بچنا ہوگا۔رمضان کا فیض اُس وقت حاصل ہوتا ہے جب قرآنِ کریم کی تعلیمات پر عمل ہو۔روزے تبھی فائدہ دیں گے جب قرآنِ کریم کی تعلیمات پر عمل ہو۔پس وہ لوگ جن کے آپس کے جھگڑے صرف اناؤں اور تکبر کی وجہ سے طول پکڑے ہوئے ہیں، واضح ہو کہ جو جھگڑے ہوتے ہیں یہ ہوتے ہی تکبر کی وجہ سے ہیں، یا آنا کی وجہ سے ہیں۔انہیں اس رمضان میں عاجزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صلح کی طرف ہاتھ بڑھانے چاہئیں۔اُن عباد الرحمان میں شامل ہونے کی کوشش کرنی چاہئے جو اللہ تعالیٰ کے پیار کو جذب کرنے کے لئے زمین میں عاجزی سے چلتے ہیں۔ہر وقت اس بات کے حریص رہتے ہیں کہ ہمارا خدا ہم سے راضی ہو جائے چاہے دنیاوی نقصان برداشت کرنا پڑے۔دوسری بات جو بیان کرنا چاہتا ہوں ، وہ بھی اس سے متعلقہ ہی ہے اور وہ ہے صبر۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوة (البقرة : 46)۔یعنی اللہ تعالیٰ سے صبر اور دعا کے ذریعہ سے مدد مانگو۔اب کون ہے جس کو ہر لمحے اللہ تعالیٰ کی مدد کی ضرورت نہیں ہے؟ لیکن یہ مددملتی ہے صبر اور دعا سے۔لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صبر اور دعا کا حق بھی وہی ادا کر سکتے ہیں جو عاجز ہوں۔فرمایا وَ إِنَّهَا لَكَبِيرَةُ إِلَّا عَلَى الْخَشِعِينَ (البقرة: 46 )۔اور عاجزی اور فروتنی اختیار کرنے والوں کے علاوہ یہ باقی لوگوں کے لئے بہت مشکل امر ہے۔پس یہاں عاجزی کو صبر اور دعا کے ساتھ ملا کر پھر اللہ تعالیٰ کی مدد کے حصول کا ذریعہ بنایا۔یعنی اللہ تعالیٰ کی مدد دعاؤں کی طرف توجہ سے اور صبر سے ملتی ہے اور یہ خصوصیت صرف اُنہی لوگوں میں ہوتی ہے جو عاجزی دکھانے والے ہیں۔اور یہ عاجزی خدا تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے والوں کا شیوہ ہے۔یہ عاجزی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں کا شیوہ ہے۔پس جب ہر سطح پر عاجزی ہو، اللہ تعالیٰ نے جو اپنے حقوق بتائے ہیں، اُن کی بھی دعا اور مستقل مزاجی سے ، کوشش سے ادا ئیگی ہو اور