خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 408
خطبات مسرور جلد 11 408 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 جولائی 2013ء خدا تعالیٰ ہمیں جس قسم کا انسان اور مومن بنانا چاہتا ہے اُس کے لئے اُس نے قرآنِ کریم میں سینکڑوں کی تعداد میں احکامات دیئے ہیں اور اس زمانے میں پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اپنی اصلاح کی طرف توجہ دلائی ہے۔قرآن کریم کی خوبصورت تعلیم کو اپنے اوپر لاگو کرنے پر آپ کے ذریعہ سے زور دلوایا ہے۔میں نے ان چند باتوں کی طرف مختصراً توجہ دلائی ہے کہ رمضان اور قرآن ہمیں کن باتوں کی یاددہانی کرواتا ہے لیکن جیسا کہ میں نے کہا، قرآنِ کریم میں سینکڑوں احکامات ہیں جن کی تلاش کر کے ہمیں اُن کے مطابق اپنی زندگیاں گزارنے کی ضرورت ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی ممکن ہوسکتا ہے اور اُس کے فضل کے حصول کے لئے اُس نے ہمیں دعاؤں کی طرف توجہ دلائی ہے۔اس وقت میں اُن سینکڑوں احکامات میں سے جو قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں دیئے ہیں دو باتوں کا ذکر کروں گا جو اللہ تعالیٰ نے ایک مومن کی خصوصیات بیان کی ہیں۔کیونکہ یہ باتیں ہمارے آپس کے تعلقات اور معاشرے کے امن کے لئے ضروری ہیں۔اور ان کا جواصل فائدہ ہے، وہ تو ہے ہی کہ جس طرح باقی احکامات پر عمل کر کے خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے، اُسی طرح ان باتوں پر بھی عمل کر کے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوگا۔اُن میں سے پہلی بات تو عاجزی اور انکساری ہے۔یہ بہت سے مسائل کا حل ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی ، ان بندوں کی جو کہ حقیقی مسلمان ہیں ، ان بندوں کی جو خدا تعالیٰ کی عبادت کرنے والے ہیں، اُن بندوں کی جو خدائے رحمان کے فضلوں اور رحم کی تلاش کرنے والے ہیں، جو خصوصیات بیان فرمائی ہیں اُن میں سے ایک بہت بڑی خصوصیت یہ ہے۔فرمایا وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا (الفرقان : 64) اور رحمان کے نیچے بندے وہ ہوتے ہیں جو زمین پر عاجزی سے چلتے ہیں اور پھر فرماتا ہے۔وَلَا تُصَعِرُ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحاً إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فخور (لقمان: 19 ) اللہ تعالیٰ یقینا ہر شیخی کرنے والے اور فخر کرنے والے سے پیار نہیں کرتا اور جب خدا تعالی کا پیار نہ ملے تو انسان کی کوئی نیکی قابل قبول نہیں ہوتی۔اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال نہیں ہوتی۔پس کون انسان ہے کہ جو ایک طرف تو خدا تعالیٰ پر ایمان کا دعوی کرے، اپنے مومن ہونے کا دعویٰ کرے اور دوسری طرف یہ کہے کہ مجھے خدا تعالیٰ کی محبت کی پرواہ نہیں۔یقینا کوئی عقلمند انسان، خرد والا انسان اور مسلمان یہ بات نہیں کر سکتا۔لیکن عملاً ہم دیکھتے ہیں اور روزمرہ معاملات میں بہت سے مسائل کی وجہ،