خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 407
خطبات مسرور جلد 11 407 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 جولائی 2013ء علیہ وسلم کا دعویٰ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر اُسوہ کے ہر پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے اس پر عمل کرنے کی کوشش کرو۔یہ یاد دہانی کروانے یہ مہینہ آیا ہے کہ اس بات کی تلاش کرو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ( المائدة : 120) کا مقام کس طرح پایا؟ کیونکہ یہ صحابہ بھی ہمارے لئے اُسوہ ہیں۔پس یہ مہینہ ہمیں اس بات کی یاد دہانی کے لئے بھی آیا ہے کہ اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لے جانے کی کوشش کرو۔زمانے کے لحاظ سے تو ہم نہیں جا سکتے لیکن قرآن کریم کی تعلیم تو ہمارے سامنے اصل حالت میں موجود ہے جو اُس زمانے میں پہنچانے کے راستے آسان کرتی ہے۔یہ مہینہ میں اس بات کی یاد دہانی کروانے آیا ہے کہ دنیا کو بتاؤ کہ دنیا کے امن کی ضمانت اور دنیا میں امن قائم کرنے کی حقیقی تعلیم قرآن کریم ہی ہے۔دنیا کو بتاؤ کہ دنیا میں امن کے قیام کا کامل نمونہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہی ہے۔یہ مہینہ ہمیں یہ یاد دہانی کروانے آتا ہے کہ قرآنِ کریم ہی وہ کتاب ہے جو اپنے ہر حکم کے بارے میں دلیل سے بات کرتی ہے۔اس کے لئے ہمیں خود بھی قرآن کریم پر غور اور اس کی تفسیر کو پڑھنے کی ضرورت ہے۔اُن لوگوں میں شامل ہونے کی ضرورت ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں فرمایا ہے کہ الّذِینَ اتَّنَهُمُ الْكِتَبَ يَتْلُونَهُ حَقٌّ تِلَاوَتِهِ (البقرة : 122 ) یعنی وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی، اُس کی اس طرح تلاوت کرتے ہیں جس طرح اُس کی تلاوت کا حق ہے۔یعنی پڑھنے کا بھی حق ادا کرتے ہیں، غور کرنے کا بھی حق ادا کرتے ہیں اور جو پڑھا یا سنا اور غور کیا، اُس پر عمل کرنے کا بھی حق ادا کرتے ہیں۔اگر یہ حق ادا نہیں ہور ہے تو ہمارے مسلمان ہونے کے دعوے صرف زبانی دعوے ہیں اور ہم اُن لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فکر کو بڑھایا۔وہ لوگ جو آخری زمانے میں پیدا ہونے تھے جنہوں نے قرآنِ کریم کی تلاوت اور اُس پر عمل کا حق ادا نہیں کرنا تھا۔جن کے بارے میں قرآنِ کریم میں اس طرح اظہار ہوا ہے کہ وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبَّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا (الفرقان : 31) اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب ! یقینا میری قوم نے اس قرآن کو متروک کر چھوڑا ہے۔پس یہ مہینہ جہاں ہمیں بہت سی خوشخبریاں دیتا ہے وہاں بہت سی ذمہ داریاں بھی ڈالتا ہے اور ہوشیار بھی کرتا ہے۔ہمیں یاد دہانی کرواتا ہے کہ اپنے جائزے لیتے رہو کہ کس حد تک قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کر رہے ہو۔اپنے جائزے لیتے رہو کہ کس حد تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فکروں کو دُور کرنے کا باعث بن رہے ہو۔ورنہ نہ رمضان ہمیں کوئی فائدہ دے سکتا ہے نہ ہی قرآن کریم ہمیں کوئی فائدہ دے گا۔