خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 405
خطبات مسرور جلد 11 405 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 جولائی 2013ء پس رمضان ہمیں یہ یاد دہانی کرواتا ہے کہ قرآنی احکامات کی تلاش کرو۔رمضان ہمیں اس بات کی یاددہانی کرواتا ہے اور اس طرف توجہ دلاتا ہے کہ قرآنی احکامات کی تلاش کرنے کے بعد انہیں اپنی زندگیوں پر لاگو کر کے اُس کا حصہ بناؤ۔رمضان ہمیں قرآن کریم کی تعلیم کی روشنی میں یہ یاد دہانی کرواتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے کی پہلے سے بڑھ کر سعی اور کوشش کرو اور اللہ تعالیٰ کا حق ادا ہوتا ہے اُس کی عبادت کا حق ادا کرنے سے۔اور عبادت کا یہ حق نمازوں کو سنوار کر اور باقاعدہ اور وقت پر پڑھنے سے اللہ 66 تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے پڑھنے سے ، پھر نوافل اور ذکر الہی پر زور دینے سے ادا ہوتا ہے۔پس یہ حق ادا کرنے کی کوشش کرو تا کہ خدا تعالیٰ کے قریب ہو جاؤ ، تا کہ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے قریب کرلو۔تا کہ خدا اور بندے کے درمیان جو ڈوری ہے اُسے ختم کر دو۔رمضان یہ یاد دہانی کرواتا ہے کہ اُس رستے کو مضبوطی سے پکڑنے والے بن جاؤ جس کا ایک سرا خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا سرا اُس نے اپنے قرب کی تلاش کرنے والے بندوں کے لئے زمین پر لٹکا یا ہوا ہے جو اُسے پکڑے گا وہ خدا تعالیٰ تک پہنچ جائے گا۔رمضان ہمیں یہ یاد دہانی کرواتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” فَإِنِّي قَرِيب (البقرة: 187)۔پس اپنی عبادتوں کے معیار اونچے کر کے اس قرب سے فیض پالو۔رمضان ہمیں یہ یاد دہانی کرواتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حقوق کی ادائیگی کی پہلے سے بڑھ کر کوشش کرو۔قرآن کریم میں بندوں کے جتنے بھی حقوق بیان ہیں اُن سب حقوق کو ادا کرنے کی کوشش کرو۔اللہ تعالیٰ نے تو غیروں کے حقوق کی ادائیگی پر بھی بہت توجہ دلائی ہے اور مسلمانوں کے لئے تو آپس میں بہت زیادہ رحماء بَيْنَهُمْ (الفتح : 30 ) اور حقوق کی ادائیگی کا ذکر ہے۔بعض لوگ اپنوں کے حقوق بھول جاتے ہیں بلکہ قریبیوں کے خونی رشتوں کے حقوق بھول جاتے ہیں۔مجھے بعض دفعہ بچیوں کے خط آ جاتے ہیں کہ لڑکوں اور لڑکیوں سے ماں باپ کا جو سلوک ہے اُس میں فرق کرتے ہیں۔اگر جائیداد اپنی زندگی میں تقسیم کرنے لگیں تو بعض دفعہ بعض خاندانوں میں لڑکیوں کومحروم کر دیا جاتا ہے اور لڑکوں کو دے دیتے ہیں۔اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے کے لئے بچیوں سے پوچھتے تو ہیں کہ اگر جائیداد بیٹے کو دے دوں تو تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں؟ بعض بچیاں لکھتی ہیں کہ ہم شرم میں کہہ دیتی ہیں کہ کوئی حرج نہیں ، ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔تو بس اتنا ہی سمجھ لیتے ہیں کہ انصاف ہو گیا۔جبکہ یہ انصاف نہیں ہے بلکہ ظلم ہے اور قرآن کریم کے واضح حکم کی خلاف ورزی ہے۔حیرت ہے اس زمانے میں بھی ایسے والدین ہیں جو یہ ظلم کرتے ہیں۔اور خوشی بھی اس بات کی ہے کہ اس زمانے میں ایسی بچیاں بھی ہیں جو ماں