خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 398
خطبات مسرور جلد 11 398 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 جولائی 2013ء مقصد ہے۔ورنہ صرف سال میں ایک مہینہ نیکیوں کے عمل اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی کوشش اور گیارہ مہینے اپنی مرضی ، دنیا کا اثر ، برائیوں میں ملوث ہونا تو کوئی مقصد پورا نہیں کرتا۔پس اس مہینے میں ہر ایک کو اپنے جائزے لیتے ہوئے روزے اور رمضان کی روح کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔تقویٰ کے راستوں کی تلاش کی ضرورت ہے۔حلال اور جائز چیزوں کے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے چھوڑنے کا جو تجربہ حاصل ہو گا اُسے اپنے اندر عمومی، اخلاقی تبدیلی پیدا کرنے کا ذریعہ بنانے کی کوشش کی ضرورت ہے۔حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف جو توجہ پیدا ہوگی، اپنے غریب بھائیوں کی مدد کی طرف جو توجہ پیدا ہوگی، اسے مستقل زندگی کا حصہ بنانے کی طرف توجہ اور کوشش کی ضرورت ہے۔پس روزوں میں، رمضان کے مہینے میں عبادات اور قربانی کا جو خاص ماحول پیدا ہوتا ہے اُسے مستقل اپنانے کی ضرورت ہے تا کہ ہم متقیوں کے گروہ میں شامل ہونے والوں کی طرف بڑھنے والے ہوں۔اس رمضان میں ہمیں اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر احسان ہے کہ رمضان میں خدا تعالیٰ جنت کے دروزے کھول دیتا ہے اور دوزخ کے دروازے بند کر دیتا ہے۔(صحيح البخارى كتاب الصوم باب هل يقال رمضان او شهر رمضان۔۔۔حدیث نمبر 1899) ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ اس مہینہ میں عبادتوں ، تزکیہ نفس اور حقوق العباد کی ادائیگی کے ذریعہ جنت کے ان دروازوں میں داخل ہونے کی کوشش کریں۔یا جنت کے ان دروازوں سے جنت میں داخل ہونے کی کوشش کریں جو پھر ہمیشہ کھلیں رہیں۔اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ واستغفار کرتے ہوئے جھکیں اور اُن خوش قسمتوں میں شامل ہو جائیں جن کی توبہ قبول کر کے اللہ تعالیٰ کو اُس سے زیادہ خوشی ہوتی ہے جتنی ایک ماں کو اپنا گمشدہ بچہ ملنے سے۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے اُس پیار کو حاصل کرنے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ کو اس رمضان میں وہ خوشی پہنچانے والے ہوں جو گمشدہ بچہ کے ماں کومل جانے سے زیادہ ہے۔لیکن جیسا کہ اس کا پہلے بار بار ذکر ہو چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ خوشی پہنچانے کے لئے ہمیں تقویٰ پر چلتے ہوئے ان عبادتوں جن میں فرائض بھی ہیں اور نوافل بھی ، ان کے معیاروں کو بلند کرنا ہوگا۔اپنے روزوں کا حق ادا کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف توجہ دینی ہوگی۔اللہ تعالیٰ محض اور محض اپنے فضل سے یہ سب کچھ اس رمضان میں ہمیں حاصل کرنے اور ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔نماز جمعہ کے بعد میں کچھ جنازے بھی پڑھاؤں گا جس میں حاضر اور غائب دونوں ہیں۔