خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 378 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 378

خطبات مسرور جلد 11 378 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 5 جولائی 2013ء نگاہ سے دیکھیں اور یہی ہماری تعلیم ہے اور یہ مسجد اس مقصد کو پورا کرنے والی ہوگی تو اس کو اخباروں نے بہت زیادہ ہائی لائٹ (Highlight) کیا۔اور درجنوں کے حساب سے انہوں نے جو انٹرنیٹ اپنے پر ویب سائٹس ہیں اُن میں بھی مساجد کی تصاویر دیں اور اس پر عام ہیں۔یہ تو مساجد کے ذریعہ سے اس بہت سارے علاقے میں تبلیغ ہوئی۔جلسہ سالانہ جرمنی میں اس دفعہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جلسہ کے ذریعہ کی جور پورٹ ہے وہ یہ ہے کہ اس سال فرانس اور تبجیم سے آنے والے نو مبائعین اور زیر تبلیغ دوستوں کے علاوہ مالٹا، اسٹونیا، آئس لینڈ، لیتھوینیا، ہنگری، لیٹویہ، رشیا، تاجکستان، قرغزستان، کوسوو، البانیا، بلغاریہ اور میسی ڈونیا سے بھی وفود آئے تھے اور ان میں غیر مسلم دوست بھی شامل تھے، جو جماعت سے ہمدردی رکھتے ہیں وہ بھی شامل تھے، زیر تبلیغ بھی شامل تھے، احمدی بھی شامل تھے۔بلغاریہ کا ایک بہت بڑا وفد تھا جو اسی (80) افراد پر مشتمل تھا۔میسی ڈونیا سے ترپن (53) افراد پر مشتمل وفد آیا تھا جس میں پندرہ عیسائی تھے، دس غیر احمدی تھے اور بائیس احمدی تھے۔اور یہ لوگ ہزاروں میل سفر کر کے آئے تھے اور ہر ایک کا یہی تاثر تھا کہ جلسہ کے روحانی ماحول سے ہم بے حد متاثر ہوئے ہیں اور احمدیوں نے تو برملا کہا کہ جلسہ نے ہمارے اندر نمایاں تبدیلی پیدا کر دی ہے اور غیروں کے یہ تاثرات تھے کہ ایسے نظارے ہم نے کہیں نہیں دیکھے۔جرمنی کا جلسہ بھی یورپ اور خاص طور پر مشرقی یورپ اُن علاقوں کے لئے ایک مرکز بن گیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں سے مختلف ممالک کے لوگوں کا آنا جانا آسانی سے ہے اس لئے تبلیغی میدان بھی وسیع تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔جس طرح ہمیشہ ہمارے بچوں کے پانی پلانے اور خدمت کرنے کے بارے میں ، بوڑھوں کی خدمت کرنے کے بارے میں ، ایک نظام کے تحت ہر کام ہونے کے بارے میں تاثرات کا اکثر عموماً اظہار ہوتا ہے تو اس عمومی خیال کا ہر ایک نے وہاں اظہار کیا۔بلکہ بعضوں نے تو کہا کہ ہمارے لئے تو یہ معجزہ ہے۔میسی ڈونیا سے آنے والی ایک تراجہ ایمیلیجا (Traja Emilija) صاحبہ عیسائی خاتون ہیں، وہاں انگریزی کی پروفیسر ہیں۔انہوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جلسہ میں پہلی بار شامل ہوئی ہوں، ہر چیز ایک نظام کے تحت منظم طور پر ہو رہی تھی۔بچوں سے لے کر بڑی عمر کے افراد تک سب ایک دوسرے کی مدد کر رہے تھے جس سے نظر آیا کہ آپ کی جماعت بہت بلند مقام پر ہے۔کہتی ہیں کہ یہاں آپ کے امام جماعت کے خطابات سن کر مجھے سمجھ آئی ہے کہ اسلام کیا ہے۔اور اسلام کا مطلب