خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 377
خطبات مسرور جلد 11 377 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 5 جولائی 2013 ء پرنٹ میڈیا کے ذریعہ، اخبارات کے ذریعہ مجموعی طور پر بارہ لاکھ افراد تک جماعت کا پیغام پہنچا۔اور نیشنل ٹی وی پر کوریج کے ذریعہ پورے جرمنی میں میری تصویر کے ساتھ جماعت کا تعارف اور پیغام پہنچا۔انٹر نیشنل سیٹ تھری 3 International SAT) جو کہ جرمنی اور آسٹریا اور سوئٹزرلینڈ کا مشتر کہ چینل ہے، اس ٹی وی پر جلسہ کے بارے میں خبر نشر ہوئی۔اس طرح ٹی وی کے ذریعہ تین ممالک میں جماعت کا پیغام پہنچا ہے جس کی کم از کم جرمنی کی جماعت کو تو قع نہیں تھی۔اخبار Main-Taunus-Kurier نے لکھا کہ خلیفہ اسیح نے اپنے خطاب میں کہا۔یہ جگہ جس کو ہم نے اب مسجد میں کنورٹ (convert) کیا ہے یہ پہلے ایک مارکیٹ تھی کہ جہاں بہت ساری چیزیں پیسوں کے عوض دی جاتی تھیں جو کہ جسمانی ضروریات کے لئے ہوتی تھی ،مسجد میں بھی کچھ ہوتا ہے، خرید و فروخت ہوتی ہے لیکن مفت چیز ملتی ہے اور وہاں روحانی چیز ملتی ہے۔یہ اخبار خبر لگا رہا ہے۔اور پھر چندوں کے بارے میں بتایا۔وہاں جماعت کو جرمنی میں سرکاری طور پر وہ سٹیٹس (Status ) مل گیا ہے کہ اب جماعت وہاں اپنے سکول بھی کھول سکتی ہے بلکہ اور دوسرے پروگرام کر سکتی ہے بلکہ چرچ کی طرح ایک حد تک ٹیکس کی طرز کا ٹیکس وصول کر سکتی ہے۔اُس پر میں نے انہیں کہا تھا کہ جماعت چندے دیتی ہے اور خوشی سے دیتی ہے اور یہ مسجد بھی قربانی کر کے جماعت نے بنائی ہے اس لئے ہمیں کسی ٹیکس کی ضرورت نہیں ، نہ اس بنیاد پر گورنمنٹ سے کسی مدد کی ضرورت ہے، نہ لوگوں سے زبردستی کرنے کی ضرورت ہے۔ہمارے احمدی تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے خود قربانیاں دے کر جماعت کے لئے خرچ کرتے ہیں ،مساجد کے لئے خرچ کرتے ہیں۔خلافت اور جماعت کا جو تعلق ہے یہ غیروں کو بھی بہت زیادہ نظر آتا ہے۔ایک مہمان لکھتے ہیں کہ احمدی اپنے خلیفہ سے جو محبت کرتے ہیں اُس کی مثال دنیا کے تعلقات میں نہیں ملتی۔احمدیوں کا اپنے خلیفہ کا قریب سے دیدار ایک نا قابل فراموش (بات) ہے اور اسی طرح خلافت کا جماعت سے اور جماعت کا خلافت سے جو یہ تعلق ہے، یہ غیر بھی اب محسوس کر رہے ہیں۔اور بہت سارے مہمانوں نے اس بات کا اظہار کیا۔بعض چیزیں اکثر کی مشترک ہیں۔ایک ہی طرح کی باتیں ہیں۔بعض اظہار ہیں ، جذبات ہیں، اُن کو میں چھوڑتا ہوں۔پھر جب میں نے اُن کو یہ کہا کہ ہمیں جماعت کی اور اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ہر مذہب کو عزت کی