خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 332 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 332

خطبات مسرور جلد 11 332 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 7 جون 2013ء مجھے کسی انعام کا حق دار نہیں بنا سکتی۔صرف اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جو اگر مجھ پر ہوا تو میری دنیا و عاقبت سنور سکتی ہے۔پس خدا تعالیٰ سے یہ مدد نہایت عاجز ہو کر مانگتی ہے کہ اے خدا! تو اپنی رحمت وفضل سے ہماری مدد کو آ اور وہ طریق ہمیں سکھا جس سے تو راضی ہو جائے عبادتوں کے بھی اور صبر کے بھی وہ طریق ہمیں سکھا جو تجھے پسند ہیں۔پھر فرمایا کہ ان فضلوں کے حصول کے لئے تم مجھ سے مدد مانگ رہے ہو تو پھر عاجزی دکھاتے ہوئے صبر کے معیار بھی بلند کرو۔اہل لغت کے نزدیک صبر کے معنی ہیں ”وقار کے ساتھ ، بغیر شور مچائے تکالیف کو برداشت کرنا، کسی قسم کا حرف شکایت منہ پر نہ لانا بلکہ بعض کے نزدیک تو تکالیف اور مشکلات کی حالت اور آرام و آسائش کی حالت میں کوئی فرق ہی نہ رکھنا۔ہر حالت میں راضی برضا رہنا۔“ مفردات امام راغب حرف الصاد زیر مادہ صبر) ے راضی ہیں ہم اُسی میں جس میں تیری رضا ہے یعنی مکمل قناعت کے ساتھ خدا تعالیٰ کی رضا پر راضی ہونا۔ہر حالت میں اپنی وفا اور مضبوطی ایمان کو خدا تعالیٰ کے لئے قائم رکھنا۔صرف اور صرف خدا تعالیٰ سے جڑے رہنا اور اُس پر بھروسہ کرنا۔اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی تعلیم پر مضبوطی سے قائم رہنا۔پس یہ وہ صبر کی حالت ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم قائم رہو گے تو میرے فضلوں کو حاصل کرنے والے بنو گے۔ایسی صبر کی حالت میں کی گئی دعائیں میرے فضلوں کا وارث بنائیں گی۔اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کو ضائع ہونے کے لئے نہیں چھوڑتا۔جب مکمل انحصار خدا تعالیٰ پر ہوتا ہے تو وہ ایسے صبر کا بدلہ بھی ضرور دیتا ہے۔فرمایا جب ایسا صبر اور استقلال پیدا ہو جائے تو پھر تمہاری دعا ئیں خدا تعالیٰ سنتا ہے۔صبر کر کے بیٹھ نہیں جانا بلکہ صلوۃ کا بھی حق ادا کرنا ہے اور صلوٰۃ کیا ہے؟ صلوٰۃ نماز بھی ہے، دعائیں بھی ہیں جو آدمی چلتے پھرتے کرتا ہے، خدا تعالیٰ کے آگے جھکنا بھی ہے، عاجزانہ طور پر درخواست کرنا بھی ہے، عاجزانہ طور پر خدا تعالیٰ کا فضل مانگنا بھی ہے۔فرمایا اس قسم کی صلوٰۃ کا حق وہی ادا کر سکتا ہے جو کمل طور پر عاجزی کی راہوں پر چلنے والا ہو۔جس میں تکبر کی کچھ بھی رمق نہ ہو۔جس کے اندرا نانیت اور بڑائی کا کچھ بھی حصہ نہ ہو۔اُس کی صلوۃ صلواۃ نہیں ہے، جس میں یہ چیزیں نہیں پائی جاتیں۔بیشک ایسا شخص نمازیں پڑھ رہا ہے۔لیکن خدا تعالیٰ کو اُس کی پرواہ نہیں ہوتی۔اللہ تعالیٰ انہی صبر کرنے والوں اور