خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 331
خطبات مسرور جلد 11 331 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 7 جون 2013ء پس ایک کامل نمونہ خدا تعالیٰ کے قرب کو حاصل کرنے کا ہمیں ملا، جس کو اپنانے کا خدا تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا۔اور مختلف احکامات بھی دیئے کہ ان کو بجالاؤ تو میرا قرب حاصل کرو گے لیکن ان احکامات کے ساتھ ، اس نمونے کے ساتھ اس ایک اصول کی بھی نشاندہی فرما دی کہ اللہ تعالیٰ کا یہ قرب اور اُس اسوہ پر چلنا اُس وقت حاصل ہوتا ہے جب عاجزی اور انکساری اختیار کرو گے۔یہ مقام اُن کو ملتا ہے جو عاجزی اور انکساری اختیار کرنے والے ہیں۔اُس شخص کے اسوے پر چلنے سے ملتا ہے جس نے اپنے رعب سے متاثر ہوئے ہوئے ایک کمزور آدمی کو کہا تھا کہ گھبراؤ نہیں ، میں بھی تمہاری طرح کا انسان ہوں ، ایک عورت کا ہی دودھ پیا ہے اور وہ ایسی عورت جو عام کھانا کھایا کرتی تھی۔عام لوگوں کی طرف زندگی گزارتی تھی۔(ماخوذ از سنن ابن ماجه كتاب الاطعمة باب القديد حديث : 3312) پس آپ کے ماننے والوں کو بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم بھی عاجز انسان بنو تا کہ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہو۔یہ آیات جو میں نے تلاوت کی ہیں ان میں عاجزی اختیار کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے طریقے بتائے گئے ہیں۔فرمایا: ” خدا تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں ہو سکتا اگر اپنے آپ کو لاشی محض سمجھتے ہوئے عاجزی کے انتہائی معیاروں کو حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرو گے۔اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستوں پر نہیں چلا جا سکتا اور اُس کے احکامات پر عمل نہیں ہو سکتا اگر عاجزی سے اُس کے فضل کے حاصل کرنے کی کوشش نہ کرو۔اس لئے فرمایا کہ عاجز ہو کر اُس کی مدد، اُس کے فضل کے حصول کے لئے مانگو۔اللہ تعالیٰ مختلف قوموں کے ذکر میں بھی جو مثالیں بیان فرماتا ہے، بعض دفعہ براہِ راست حکم دیتا ہے، بعض دفعہ قوموں کا ذکر کرتا ہے، لوگوں کے پرانی قوموں کے حالات بیان کرتا ہے۔بعض لوگوں کے حالات بیان کرتا ہے کہ وہ ایسے ہیں، اگر ایسے نہ ہوں تو اُن کی اصلاح ہو جائے۔اُس میں مؤمنین کے لئے بھی سبق ہے کہ براہ راست صرف تمہیں جو حکم دیا ہے، وہی تمہارے لئے نصیحت نہیں ہے بلکہ ہر ایک ذکر جو قر آن کریم میں آتا ہے وہ تمہارے لئے نصیحت ہے۔پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ عاجزی اختیار کرو اور اُس کے فضل کے حاصل کرنے کے لئے کوشش کرو۔فرمایا کہ اُس کے فضل کے حصول کے لئے عاجز ہو کر اُس کی مدد مانگو۔جب تک وَاسْتَعِينُوا “ کی روح کو نہیں سمجھو گے، نیکیوں کے راستے متعین نہیں ہو سکتے اور وَاسْتَعِينُوا “ کی روح اُس وقت پیدا ہوگی جب خشوع پیدا ہوگا ، جب عاجزی پیدا ہوگی، جب صرف اور صرف یہ احساس ہوگا کہ میری کوئی خوبی