خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 318
خطبات مسرور جلد 11 318 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 31 مئی 2013 ء کے چرچ اور حکومت کو الگ الگ رکھنے کے پیغام کو بہت سراہتا ہوں۔ہمیں اس ملک میں بہت سے حقوق حاصل ہیں لیکن ہمیں یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہئے کہ دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اپنے عقائد کی وجہ سے ظلم کا نشانہ بن رہے ہیں۔پھر کہتے ہیں کہ : میں نے اپنی ساری زندگی تعلیم حاصل کرنے میں گزاری ہے۔اس لحاظ سے مجھ پر ایک نئے پہلو کا انکشاف ہوا ہے کہ کس طرح اسلام کی حقیقی تعلیمات دنیا میں امن اور برداشت پھیلانے میں محمد ہو سکتی ہیں۔مجھے آپ کی اس بات سے اتفاق ہے کہ امن اُس وقت تک حاصل نہیں کیا جا سکتا جب تک جابرانہ نقطہ نظر اور ظلم کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔میں آپ کا شکر یہ ادا کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ میں اس دنیا کو بہتر جگہ بنانے کی خاطر اپنی زندگی آپ کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق گزاروں گا۔اگر غیروں پر یہ اثر ہے تو ہم جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کے غلام ہیں، ہماری بھی کتنی ذمہ داری ہے کہ اس اہم پیغام کو دنیا تک پہنچائیں اور اپنے آپ کو ڈھالنے کی کوشش کریں۔پھر ایک کانگریس مین Dana Rohrabacher جو کہ ریپبلکن ہیں اور یہ بھی وہاں شامل تھے، کیلیفورنیا سے ان کا تعلق ہے، عام طور پر اسلام کے خلاف نظریات رکھتے ہیں اور ایک مہینہ پہلے جو بوسٹن میراتھن پر حملہ ہوا تھا، اُس کے بعد موصوف نے بیان دیا تھا کہ اسلام بچوں کو مارنے کی ترغیب دیتا ہے اور آجکل کے معاشرے کے لئے اسلام ایک خطرہ بن چکا ہے۔یہ ان کا بیان تھا۔پھر پاکستان کے حوالے سے بھی ان کا بیان تھا کہ وہاں کے سیاسی معاملات میں کیا کرنا چاہئے اور فلاں فلاں کو علیحدہ کر دینا چاہئے۔بہر حال یہ خطاب سننے کے بعد انہوں نے جو ریمارکس دیئے وہ یہ تھے کہ آج کا جو خطاب ہے یہ سننے کے بعد میں یہ کہتا ہوں کہ یہ ہمارے دلوں کی آواز ہے۔پھر کہتے ہیں کہ آپ کا محبت اور ایک دوسرے کے لئے برداشت کرنے اور ایک دوسرے کو قبول کرنے کا پیغام نہایت اہم ہے جو ہمیں ایک دوسرے سے جوڑے رکھے گا۔کہتے ہیں یہ میری ان سے ( یعنی میرے سے) پہلی ملاقات تھی اور میں ان کی حالات حاضرہ کے متعلق قابل فکر اور حکیمانہ سوچ سے متاثر ہوا ہوں۔ہر مذہب سے تعلق رکھنے والا شخص جماعت احمدیہ کے خلیفہ کے اس پیغام کو قبول کر سکتا ہے جو امن کا پیغام ہے اور سننے کے قابل ہے۔اور نہایت متانت کے ساتھ یہ امن کا پیغام ہمیں ملا۔پھر بعد میں انہوں نے ہمارے جو وہاں امریکہ کے سیکرٹری خارجہ ہیں اُن کو خط میں لکھا ہے جو انہوں نے بھجوایا۔لکھتے ہیں کہ مرزا مسرور احمد کے جنوبی کیلیفورنیا کے دورے میں انہوں نے وہ مقصد حاصل کیا ہے جس نے یہاں نیکی، پیار ، نرمی کے ایسے بیچ کی فصل لوگوں کے دلوں میں لگائی ہے جسے سالوں تک وہ کاٹتے رہیں گے اور فیض پاتے رہیں گے۔