خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 317
خطبات مسرور جلد 11 317 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 31 مئی 2013ء ساتھ تر و تازہ ہو کر اس مجلس سے اٹھی ہوں۔پھر کہتی ہیں کہ خطاب بڑا فصیح اور مؤثر تھا اور وقت کی ضرورت تھا۔مجھے اس امر کی خوشی ہے کہ انہوں نے ( یعنی میرا حوالہ دے رہی ہیں کہ ) خدا کے رسول کے خلاف کئے جانے والے سارے اعتراضات کو نہایت خوبی سے ایڈریس کیا۔متعدد مقررین اس موضوع سے اپنا دامن کترا کر چلے جاتے ہیں اور کوئی معقول جواب نہیں دیتے۔مگر انہوں نے نہایت مدلل طور پر اُن تمام اعتراضات کا براہِ راست جواب دیا اور وہ بھی ایسی تقریب میں جہاں بڑی تعداد میں بہت اعلیٰ حیثیت کے معززین بیٹھے ہوئے تھے۔پھر ایک مہمان نے کہا کہ : امن کے قیام کے بارے میں ایسا ایڈریس میں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں سنا۔یہ سیدھا ہمارے دلوں تک پہنچا ہے۔پھر Bernardino County کے Sheriff نے اظہار کیا کہ : یہ خطاب وقت کی ضرورت تھی اور اس پر چل کر ہم دنیا میں امن قائم کر سکتے ہیں۔پھر ایک وکیل ہیں، بڑی کمپنی کے ڈائریکٹر ہیں، کہتے ہیں کہ بڑا اچھا پروگرام تھا جنگوں کے بارے میں اسلامی تعلیم نے بہت متاثر کیا غیر مسلموں کے ساتھ انتہائی مشکلات میں مفاہمت کا عمل احمدی ہی بجالا سکتے ہیں۔پھر وہاں کے ایک ممتاز ڈاکٹر ہیں وہ کہتے ہیں کہ : میں جماعت کو زیادہ نہیں جانتا تھا لیکن اس خطاب کے ہر حرف اور ہر لفظ پر میں نے غور کیا ہے اور اسے سچا پایا ہے۔یہ الفاظ کہ دنیا تیسری جنگ عظیم کے لئے کمر بستہ ہے، بالکل درست ہیں۔یہ انتباہ دنیا کے تمام لیڈرز کو کیا جانا چاہئے۔پھر ایک عیسائی پادری Jan Chase نے کہا کہ: یہ ایڈریس قابل ستائش تھا۔آپ نے دہشت گردی کی مذمت کی اور برملا سب کے سامنے اسلام کی صحیح تعلیم بیان کی۔پھر ایک مہمان دوست Dr۔Fred ہیں، انہوں نے کہا کہ مذہب کی جو تصویر آپ نے پیش کی ہے اس کے متعلق میر اعلم بہت کم تھا۔مذہب کے متعلق آپ کے الفاظ میری سوچ کی عکاسی کر رہے تھے۔محبت سب کے لئے ، نفرت کسی سے نہیں“ کا پیغام بہت زبر دست تھا۔ایک دوسرے کو اس طرح قبول کرنا کہ صرف ایک خدا ہے جو اُس کا خدا ہے وہی میرا خدا ہے۔یہ پیغام امن کی ضمانت ہے۔پھر کہتے ہیں۔قیامِ امن کے لئے ان کوششوں اور ایٹمی جنگ کے انتباہ پر دنیا کے حکمرانوں کو کان دھرنے چاہئیں۔پھر ایک اور شہر کے میئر ہیں اور کہتے ہیں کہ مجھے جماعت احمدیہ کے متعلق بہت کم تجربہ تھا۔آپ