خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 312 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 312

خطبات مسرور جلد 11 312 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 31 مئی 2013 ء کے ایک اور پیار اور اُس کی نعمت کا اظہار ہے جو پھر ہمیں اللہ تعالیٰ کی نعمت کا ذکر کرنے اور اُس کی شکر گزاری کے اظہار کی طرف توجہ دلاتا ہے۔پس ایک حقیقی مومن کو اللہ تعالیٰ کے انعامات کا وارث بنتے چلے جانے کے لئے اس مضمون کے حقیقی ادراک کی ضرورت ہے۔اس زمانے میں جب اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو دنیا میں پھیلانے کے لئے بھیجا تو اپنی خاص تائیدات سے بھی نوازا۔اپنے نشانات سے بھی نوازا جو روزِ روشن کی طرح ظاہر ہوئے اور ہورہے ہیں ، جس کے نظارے ہم دیکھتے چلے جارہے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی آپ کے ساتھ یہ تائیدات اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق ہیں۔اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی آپ کو بتا دیا تھا کہ تم میری نعمتوں کا احاطہ نہیں کر سکو گے ، اُن کو گن نہیں سکو گے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہام فرمایا : وَاِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللهِ لَا تُحْصُوهَا - ( تذكره صفحه 75 ایڈیشن چہارم مطبوعہ ربوہ ) کہ اگر تو خدا تعالیٰ کی نعمتوں کو گننا چاہے تو یہ ناممکن ہے۔پھر یہ بھی آپ کو الہاما فرمایا کہ وَأَما بِنِعْمَةِ رَبَّكَ تحيت ( تذکر صفحہ 82 ایڈیشن چہارم مطبوعہ ربوہ) اور اپنے رب کی نعمتوں کا ذکر کرتا چلا جا۔آپ علیہ السلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ: ” یہ عاجز بحكم وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبَّكَ فَحَدِكُ- اضحی : 12) اس بات کے اظہار میں کچھ مضائقہ نہیں دیکھتا کہ خداوند کریم و رحیم نے محض فضل و کرم سے ان تمام امور سے اس عاجز کو حصہ وافرہ دیا ہے اور اس ناکارہ کو خالی ہاتھ نہیں بھیجا اور نہ بغیر نشانوں کے مامور کیا۔بلکہ یہ تمام نشان دیئے ہیں جو ظاہر ہو رہے ہیں اور ہوں گے اور خدائے تعالیٰ جب تک کھلے طور پر حجت قائم نہ کر لے تب تک ان نشانوں کو ظاہر کرتا جائے گا۔“ (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 339-338) پھر فرمایا: ” عجز و نیاز اور انکسار ضروری شرط عبودیت کی ہے۔“ (یعنی اگر اللہ تعالیٰ کا صحیح بندہ اور عبد بننا ہے تو پھر عجز اور انکسار بھی ہونا چاہئے۔یہ ضروری شرط ہے ) فرمایا: ”لیکن بحکم آیت کریمہ وآقا بِنِعْمَةِ رَبَّكَ فَحَيّت نعماء الہی کا اظہار بھی از بس ضروری ہے۔“ مکتوبات احمد جلد 2 صفحہ 66 مکتوب نمبر 42 بنام حضرت حکیم مولانا نورالدین صاحب مطبوعہ ربوہ ) پس اللہ تعالیٰ کا جب بھی ہم پر فضل ہوتا ہے۔اُس کا بیان اور اظہار ہم اس حکم کے مطابق کرتے ہیں اور کرنا چاہئے لیکن عاجزی اور انکسار کے ساتھ ، نہ کہ اپنی کسی بڑائی کو بیان کرتے ہوئے۔گزشتہ دنوں میں امریکہ اور کینیڈا کے دورے پر تھا۔وہاں مختلف پروگرام غیروں کے ساتھ بھی