خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 303
خطبات مسرور جلد 11 303 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 24 مئی 2013 ء جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی۔جیسا کہ خدا کا براہین احمدیہ میں وعدہ ہے۔اور وہ وعدہ میری ذات کی نسبت نہیں ہے بلکہ تمہاری نسبت وعدہ ہے جیسا کہ خدا فرماتا ہے کہ میں اس جماعت کو جو تیرے پیرو ہیں قیامت تک دوسروں پر غلبہ دوں گا۔“ (رسالہ الوصیت روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 306-305) پس اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم گزشتہ ایک سو پانچ سال سے اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کو پورا ہوتا دیکھ رہے ہیں۔جماعت پر مختلف دور آئے لیکن جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنی ترقی کی منزل پر نہایت تیزی سے آگے بڑھتی چلی جارہی ہے۔ایک ملک میں دشمن ظلم و بربریت سے سختیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے، ظلم و بربریت کرتا ہے تو دوسرے ملک میں اللہ تعالیٰ کامیابی کے حیرت انگیز راستے کھول دیتا ہے اور یہی نہیں بلکہ جس ملک میں تنگیاں پیدا کی جاتی ہیں، وہاں بھی افرادِ جماعت کے ایمانوں کو مضبوط فرماتا چلا جاتا ہے۔اور پھر جب میں اپنی ذات میں یہ دیکھتا ہوں میری تمام تر کمزوریوں کے باوجود کہ کس طرح اللہ تعالیٰ جماعت کو ترقی کی شاہراہوں پر دوڑاتا چلا جا رہا ہے تو اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان میں اور ترقی ہوتی ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر یقین مزید کامل ہوتا ہے کہ یقیناً خدا تعالیٰ کا ہاتھ ہے جو جماعت کو آگے سے آگے لے جاتا چلا جارہا ہے اور جس کو بھی خدا تعالیٰ خلیفہ بنائے گا قطع نظر اس کے کہ اُس کی حالت کیا ہے اپنی تائیدات سے اُسے نوازتا چلا جائے گا۔انشاء اللہ۔خلافت خامسہ کے قائم ہونے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنی اس فعلی شہادت کا بھی اظہار فرما دیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی اور آپ کے غلام صادق کی یہ بات کہ خلافت اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے دور میں دائمی ہے، یقینا اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے اور آئندہ بھی یہ نظام اللہ تعالیٰ کے فضل سے جاری رہے گا، انشاء اللہ۔لیکن اللہ تعالیٰ نے خلافت سے فیض پانے والوں کی بعض نشانیاں بتائی ہیں۔جو آیات میں نے تلاوت کی ہیں ان میں اللہ تعالیٰ نے ان تمام باتوں کا نقشہ بھی کھینچ دیا ہے جو خلافت سے فیض پانے والوں کے لئے ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب مومنوں کو فیصلوں کے لئے اللہ اور رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تو اُن کا جواب یہ ہوتا ہے کہ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا “ ہم نے سنا اور اطاعت کی۔فرمایا کہ یہی لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔یہی ہیں جو کامیابیاں دیکھنے والے ہیں۔پس یہاں صرف عبادتوں اور خالص دین کی باتوں کا ذکر نہیں ہے، بلکہ جیسا کہ قرآن کریم کا دعویٰ ہے کہ اس میں جہاں اللہ تعالیٰ کے حقوق کی تفصیل ہے، وہاں حقوق العباد کی بھی تفصیل ہے، معاشرتی نظام کی بھی تفصیل ہے، حکومتی نظام کی بھی تفصیل ہے۔قرآنِ کریم ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔پس یہاں اُن لوگوں کے لئے بھی تنبیہ ہے جو