خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 301 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 301

خطبات مسرور جلد 11 301 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 24 مئی 2013 ء مسیح موعود یقیناً وقت پر آیا۔یہاں یہ بھی وضاحت کر دوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خاتم الخلفاء ہونے کی حیثیت سے اُس خلافت کی انتہا تک پہنچے جو منہاج نبوت کا اعلیٰ ترین معیار تھا یا آپ اُس مقام پر فائز ہوئے جو منہاج نبوت کا اعلیٰ ترین معیار تھا۔اور مسیح موعود ہونے کی حیثیت سے اور اللہ تعالیٰ کے فرمان اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں فنا ہونے کی وجہ سے ظلی نبی بھی بنے اور یوں خلافت کا جو نظام آپ کے ذریعے سے، آپ کے طریق پر آگے چلا وہ دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی منہاج پر قائم ہے جس کا کام قرآنِ کریم کی شریعت کو مسلمانوں میں جاری کرنا۔قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کے حق ادا کرنے کی کوشش کرنا اور کروانا۔سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا رہنما بنا کر اس پر عمل کرنا اور جماعت کو اس کے مطابق تلقین کرنا اور عمل کروانا ہے۔پس خلافت احمدیہ بھی اسلام کی نشاۃ ثانیہ میں خلافتِ راشدہ کا تسلسل ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دور کی خلافت کی اللہ تعالیٰ سے اطلاع پا کر ایک مدت گزرنے کے بعد ختم ہونے کی اطلاع فرمائی تھی۔اور دوسرے دور کی خلافت کی اللہ تعالیٰ سے اطلاع پا کر ہمیشہ جاری رہنے کی خوشخبری عطا فرمائی۔لیکن کن لوگوں کو؟ یقیناً اُن لوگوں کو جو خلافت کے ساتھ جڑے رہنے کا حق ادا کرنے والے ہیں۔تقویٰ پر چلنے والے ہیں۔عمل صالح کرنے والے ہیں۔عبادتوں میں بڑھنے والے ہیں۔بہت سے لوگ ہیں جو جماعت احمدیہ میں شامل ہوتے ہیں لیکن چونکہ خلافتِ احمدیہ سے جڑے رہنے کا حق ادا کرنے والے نہیں ہوتے ، اس لئے اللہ تعالیٰ کی تقدیر اُن کو جماعت سے باہر کروا دیتی ہے۔دنیا داری کی خاطر وہ جماعت احمدیہ سے یا تو ویسے علیحدہ کر دیئے جاتے ہیں یا خود ہی علیحدگی کا اعلان کر دیتے ہیں۔لیکن کیا کبھی ایسے لوگوں کے چلے جانے سے جماعت احمدیہ کی ترقی میں فرق پڑا؟ کبھی روک پڑی؟ ایک کے جانے سے اللہ تعالیٰ ایک جماعت مہیا فرما دیتا ہے۔خشک ٹہنیاں کائی جاتی ہیں تو ہری اور سرسبز ٹہنیاں پہلے سے زیادہ پھوٹتی ہیں۔پس چونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ خلافت کے نظام کو اب جاری رکھنا ہے، اس لئے اُس کی تراش خراش اور نگہداشت کا کام بھی خود اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں لیا ہوا ہے۔یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ اللہ تعالیٰ اپنے سب سے پیارے انسان اور نبی کی پیشگوئی کا پاس نہ کرے۔یقیناً یہ پیشگوئی پوری ہوئی اور انشاء اللہ تعالیٰ پوری ہوتی چلی جائے گی۔گو بعض حالات ایسے آتے ہیں کہ مخالفین اور کمزور ایمان والے سمجھتے ہیں کہ اب ختم ہوئے کہ اب ختم ہوئے لیکن اللہ تعالیٰ کے تائیدی نشان اُس دور سے جماعت کو نکال کر لے جاتے ہیں۔سب سے بڑا دل ہلا دینے والا دور تو جماعت پر اُس