خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 299 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 299

خطبات مسرور جلد 11 299 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 24 مئی 2013 ء آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ہے۔حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تم میں نبوت قائم رہے گی جب تک اللہ چاہے گا۔پھر وہ اس کو اُٹھا لے گا اور خلافت علی منہاج نبوت قائم ہوگی۔پھر اللہ تعالیٰ جب چاہے گا ، اس نعمت کو بھی اُٹھالے گا۔پھر اُس کی تقدیر کے مطابق ایذا رساں بادشاہت قائم ہوگی جس سے لوگ دل گرفتہ ہوں گے اور تنگی محسوس کریں گے۔پھر جب یہ دور ختم ہو گا تو اُس کی دوسری تقدیر کے مطابق اس سے بڑھ کر جابر بادشاہت قائم ہوگی۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا رحم جوش میں آئے گا اور اس ظلم وستم کے دور کو ختم کر دے گا۔اس کے بعد پھر خلافت علی منہاج نبوت قائم ہوگی اور یہ فرما کر آپ خاموش ہو گئے۔“ 66 (مسند احمد بن حنبل جلد 6 صفحه 285 حديث النعمان بن بشیر، حدیث نمبر 18596 عالم الكتب بيروت لبنان 1998 پس پہلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نبوت کے بارے میں فرمایا، پھر خلافتِ راشدہ کے قیام کا ذکر فرمایا جو منہاج نبوت پر (یعنی نبوت کے طریق پر ) آگے بڑھتے چلے جانے والی ہوگی۔اور دنیا نے دیکھا کہ پہلی چار خلافتیں جو خلافت راشدہ کہلاتی ہیں، کس طرح دنیا کی جاہ و حشمت سے دُور اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کو ہر آن سامنے رکھتے ہوئے خالصہ للہ امورِ خلافت سرانجام دیتی رہیں۔پھر کس طرح حرف به حرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات پوری ہوئی جس میں بعض دوروں میں کم ایذا رساں اور بعض میں زیادہ ایذا رساں بادشاہت مسلمانوں میں نظر آتی ہے۔تو خلافتِ راشدہ کے بعد یہ بادشاہت قائم ہوئی۔یہ بات بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری ہوئی ظلم و جبر جو ہے وہ بھی تاریخ پڑھیں تو ہمیں ان بادشاہتوں میں دیکھنے میں نظر آتا ہے۔بادشاہت کا دین سے زیادہ دنیا کی طرف رجحان تھا۔پھر آپ نے فرمایا کہ جس طرح ہمیشہ ہوتا آیا ہے، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے۔ایک تاریک دور کے بعد پھر اللہ تعالیٰ کا رحم جوش میں آئے گا اور ظلم و ستم کا دور ختم ہوگا اور پھر خلافت علی منہاج نبوت قائم ہوگی اور اس کے بعد آپ خاموش ہو گئے جیسا کہ حدیث میں ہے۔اس حدیث پر غور کر کے ہر انسان دیکھ سکتا ہے کہ خلافتِ راشدہ کے بارے میں بھی آپ کی پیشگوئی پوری ہوئی۔پھر کم ایذا رساں بادشاہت اور پھر اس کے بعد جابر بادشاہت کے بارے میں بھی آپ کی پیشگوئی پوری ہوئی۔تو پھر اس کے آخری حصے کے بارے میں باوجو دسب نشانیاں پوری ہو جانے اور باوجود خدا تعالیٰ کے بھی اس اعلان کے کہ وَآخَرِيْنَ مِنْهُمُ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ (الجمعة: 4) اور آخرین میں سے بھی ، یعنی آخرین میں ایک دوسری قوم میں بھی وہ اُسے بھیجے گا جو ابھی ان سے نہیں ملی۔یعنی