خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 298
خطبات مسرور جلد 11 298 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 24 مئی 2013 ء پس جماعت احمدیہ کے لئے یہ دن کوئی عام دن نہیں ہے۔اس دن کی بڑی اہمیت ہے۔اور اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے جب ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کو دیکھتے ہیں۔اُمت مسلمہ کی اکثریت بڑی حسرت سے جماعت کی طرف دیکھتی ہے، بلکہ حسرت سے زیادہ حسد سے کہنا چاہئے دیکھتی ہے کہ ان میں خلافت قائم ہے اور اپنے میں یہ قائم کرنے کے لئے کئی دفعہ اپنی سی کوشش کر چکے ہیں اور کرتے رہتے ہیں لیکن ہمیشہ نا کام رہے ہیں۔اس لئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح حکم اور ہدایت کی نافرمانی کر رہے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ جب مسیح موعود اور مہدی موعود کا ظہور ہو گا تو اپنے آپ کو تکلیف میں ڈال کر برف کے تودوں پر گھٹنوں کے بل گھسٹتے ہوئے بھی جانا پڑے تو اُس کے پاس جانا ( سنن ابن ماجہ کتاب الفتن باب خروج المهدی حدیث نمبر 4084) اور میر اسلام کہنا۔( مسند احمد بن حنبل مسند ابي هريرة جلد سوم صفحہ 182 حدیث نمبر 7957 بیروت 1998 ء) پھر آپ نے نشانیاں بھی بتا دیں کہ وہ پوری ہو جائیں تو سمجھنا کہ دعویٰ کرنے والا سچا ہے۔یہ نشانیاں آسمانی بھی ہیں اور زمینی بھی ہیں۔کئی دفعہ جماعت کے سامنے بھی پیش ہوتی ہیں۔افراد جماعت مخالفین کے سامنے بھی پیش کرتے ہیں۔اس وقت ان کی وضاحت میں نہیں کروں گا لیکن نہ ماننے والوں کی بدقسمتی ہے کہ انہوں نے دنیاوی مصلحتوں کی وجہ سے یا نام نہاد دینی علماء کے خوف سے یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات پر کان نہ دھرنے کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ دعویٰ کرنے والے کو قبول نہیں کیا بلکہ بعض سخت قسم کے ملاں شدید دشمنی میں بڑھے ہوئے ہیں۔اُن کے خوف سے حکومتیں اس حد تک بڑھ گئی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرستادے کے خلاف نہایت گندی اور مکروہ قسم کی زبان استعمال کی جاتی ہے۔انتہائی کر یہ قسم کے ان کے فعل ہوتے ہیں۔یہ سب جانتے ہوئے کہ زمانہ پکار پکار کر آنے والے کے وقت کا اعلان کر رہا ہے، خدا تعالیٰ نشان دکھا چکا ہے اور نشان دکھا رہا ہے۔( پھر بھی ) یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے کی مخالفت کرتے چلے جارہے ہیں۔ہر مخالفت کے بعد ایک نئے عذاب میں مبتلا ہوتے ہیں لیکن ڈھٹائی ایسی ہے کہ مخالفت چھوڑ نا نہیں چاہتے۔پس اس کو ان لوگوں کی بد قسمتی نہیں تو اور کیا کہا جاسکتا ہے۔بہر حال جیسا کہ میں نے کہا، اس دن کی اہمیت ہے اور اس کا اعلان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک پیشگوئی میں فرما چکے ہیں۔گو معین تاریخ کے ساتھ تو نہیں لیکن آنے والے اپنے عاشق صادق اور مسیح موعود کی بعثت کا پہلے اعلان فرما کر اور پھر خلافت کا ذکر فرما کر آپ نے یہ پیشگوئی فرمائی تھی۔پس اس سے زیادہ کس چیز کی اہمیت ہو سکتی ہے جس کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا ہو۔