خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 297
خطبات مسرور جلد 11 297 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 24 مئی 2013ء ہونے والے ہیں۔اور انہوں نے اللہ کی پختہ قسمیں کھائیں کہ اگر تو انہیں حکم دے تو وہ ضرور نکل کھڑے ہوں گے۔تو کہہ دے کہ قسمیں نہ کھاؤ۔دستور کے مطابق عمل کرو، طاعت در معروف کرو۔یقیناً اللہ جو تم کرتے ہو اس سے ہمیشہ باخبر رہتا ہے۔کہہ دے کہ اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو۔پس اگر تم پھر جاؤ تو اس پر صرف اتنی ہی ذمہ داری ہے جو اس پر ڈالی گئی ہے اور تم پر بھی اتنی ہی ذمہ داری ہے جتنی تم پر ڈالی گئی ہے۔اور اگر تم اس کی اطاعت کرو تو ہدایت پا جاؤ گے۔اور رسول پر کھول کھول کر پیغام پہنچانے کے سوا کچھ ذمہ داری نہیں۔تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال بجالائے اُن سے اللہ نے پختہ وعدہ کیا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسا کہ اس نے اُن سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا اور ان کے لئے ان کے دین کو، جو اس نے ان کے لئے پسند کیا، ضرور تمکنت عطا کرے گا اور ان کی خوف کی حالت کے بعد ضرور انہیں امن کی حالت میں بدل دے گا۔وہ میری عبادت کریں گے۔میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔اور جو اس کے بعد بھی ناشکری کرے تو یہی وہ لوگ ہیں جو نا فرمان ہیں۔اور نماز کو قائم کرو اور زکوۃ کو ادا کرو اور رسول کی اطاعت کرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔مئی کے مہینہ میں جماعت احمدیہ کے لئے ایک خاص دن ہے، یعنی 27 رمئی کا دن جو یومِ خلافت کے طور پر جماعت میں منا یا جاتا ہے۔گو ابھی تین دن باقی ہیں، لیکن اسی حوالے سے میں نے اپنا مضمون رکھا ہے۔26 مئی 1908ء کا دن جماعت احمدیہ کے لئے ایک دل ہلا دینے والا دن تھا، بہت سوں کے ایمانوں کو لرزا دینے والا دن تھا۔بعض طبیعتوں کو بے چین کر دینے والا دن تھا۔دشمن کے لئے افراد جماعت کے دلوں کو اور جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا دن تھا۔تاریخ احمدیت میں دشمنانِ احمدیت کی ایسی ایسی حرکات درج ہیں کہ پڑھ کر حیرت ہوتی ہے کہ کوئی انسان اس حد تک بھی گر سکتا ہے جیسی حرکتیں انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے وقت کیں۔کجا یہ کہ مسلمان کہلا کر اپنے آپ کو رحمت للعالمین کی طرف منسوب کر کے پھر ایسی حرکات کی جائیں۔بہر حال ہر ایک اپنی فطرت کے مطابق اُس کا اظہار کرتا ہے لیکن پھر اللہ تعالیٰ کی بھی اپنی قدرت چلتی ہے۔اُس کے وعدے پورے ہوتے ہیں۔27 رمئی کا دن جماعت احمدیہ کے لئے تسکین اور امن کا پیغام بن کر آیا۔خدا تعالیٰ کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کئے گئے وعدے کے پورا ہونے کی خوشخبری لے کر آیا اور دشمن کو اُس کی آگ میں جلانے والا بن کر آیا۔اُس کی خوشیوں کو پامال کرنے کا دن بن کر آیا۔