خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 294 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 294

خطبات مسرور جلد 11 294 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 17 مئی 2013 ء نہ رکھتے ہوں لیکن باہر کی دنیا کے لئے دلچسپی رکھتے ہیں۔اس مسجد کی تعمیر کا اعلان تو 1997ء میں حضرت خلیفتہ اسیح الرابع نے ہی فرمایا تھا اور بیت الرحمن نام بھی رکھا تھا۔اس کا کل رقبہ تقریباً پونے چارا یکڑ کا ہے اور مسقف حصہ ( Covered Area) جو ہے تینتیس ہزار چارسو انیس (33419 ) مربع فٹ ہے۔دومنزلیں ہیں۔گنبد کی اونچائی سینتالیس فٹ ہے۔مینار کی اونچائی چھہتر (76) فٹ ہے۔اس وقت تو مسجد کے لئے، دونوں بال جو ہیں مردوں اور عورتوں کے ملے ہوئے ہیں اور دونوں بالوں کی گنجائش کا ایریا چھ ہزار آٹھ سو مربع فٹ ہے۔Multi Purpose ہال بھی ہے۔گیارہ سو بتیس (1132) افراد مسجد میں اور دس سو پچاس (1050) ملٹی پرپز (Multi Purpose) ہال میں نماز پڑھ سکتے ہیں۔یعنی تقریباً دو ہزار سے زیادہ۔پارکنگ بھی کافی وسیع ہے۔140 کاروں کی جگہ ہے۔لائبریری بھی ہے تبلیغ کا ایک سینٹر ہے، کچن ہے، فیونرل (Funeral) ہوم سروس کے لئے بھی انتظام ہے۔چار عدد کلاس روم ہیں۔دفاتر ہیں۔بورڈ روم ہے۔مشنری کی رہائش گاہ ہے۔مشن ہاؤس ہے۔گیسٹ ہاؤس ہے۔اور بڑی خوبصورت باہر کی کیلی گرافی بھی یہاں ہوئی ہے۔جو خاص خاص باتیں ہیں وہ میں نے بتا دی ہیں۔اس کا خرچ بعض زائد خرچ شامل ہونے کی وجہ سے تقریباً ساڑھے آٹھ ملین ڈالر آیا ہے۔بہر حال اللہ تعالیٰ آپ کو یہ مسجد ہر لحاظ سے مبارک فرمائے۔آخر میں ایک چھوٹا سا اقتباس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پڑھنا چاہتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں : مسجدوں کی اصل زینت عمارتوں کے ساتھ نہیں ہے بلکہ اُن نمازیوں کے ساتھ ہے جو اخلاص کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں، ورنہ یہ سب مساجد ویران پڑی ہوئی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد چھوٹی سی تھی۔کھجور کی چھڑیوں سے اُس کی چھت بنائی گئی تھی اور بارش کے وقت چھت میں سے پانی ٹپکتا تھا۔مسجد کی رونق نمازیوں کے ساتھ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں دنیا داروں نے ایک مسجد بنوائی تھی ، وہ خدا تعالیٰ کے حکم سے گرادی گئی۔اس مسجد کا نام مسجد ضرار تھا یعنی ضرر رساں۔اس مسجد کی 66 زمین خاک کے ساتھ ملا دی گئی تھی۔مسجدوں کے واسطے حکم ہے کہ تقویٰ کے واسطے بنائی جائیں۔“ ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 491 ایڈ یشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) پس یہ ہر احمدی کو سامنے رکھنا چاہئے۔پھر فرماتے ہیں: ”جماعت کی اپنی مسجد ہونی چاہئے جس میں اپنی جماعت کا امام ہو اور وعظ وغیرہ