خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 292 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 292

خطبات مسرور جلد 11 292 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 17 مئی 2013ء نے جو یہ فرمایا ہے کہ فَعَسَى أُولَئِكَ أَنْ يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ۔یعنی پس قریب ہے کہ یہ لوگ ہدایت یافتہ لوگوں میں شمار کئے جائیں۔اس سے یہ مراد نہیں کہ یہ عمل کریں گے تو شاید ہدایت یافتہ قرار پائیں۔اگر نیک نیتی سے عمل کئے جائیں تب بھی شاید والی بات ہو۔بلکہ اہل لغت کے نزدیک عسی “ 66 جب خدا تعالیٰ کے لئے استعمال ہوتا ہے تو اُس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو جو ہر لحاظ سے ایمان میں پختہ ہیں، زکوۃ اور مالی قربانیوں میں بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے شامل ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی دنیاوی چیز سے اُنہیں خوف نہیں ہے تو وہ یقینا اللہ تعالیٰ کی نظر میں ہدایت یافتہ ہیں، اور ان کا مسجد میں آنا، نمازیں پڑھنا اور اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنا اُن کو تقوی اور ایمان میں بڑھاتا رہے گا۔اور اُن کے تقویٰ کے معیار بلند ہوتے چلے جائیں گے۔پس خوش قسمت ہیں ہم میں سے وہ جو اللہ تعالیٰ کی نظر میں ہدایت یافتہ بن کر اُس کے قرب میں ترقی کر رہے ہیں۔میں بعض ایک دو ذمہ داریوں کے متعلق بھی عرض کر دوں جو خدا تعالیٰ نے ہم پر ڈالی ہیں، یا وہ باتیں جن کا اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ (آل عمران : 111 )۔کہ تم سب سے بہتر جماعت ہو جسے لوگوں کے فائدہ کے لئے پیدا کیا گیا ہے، تم نیکی کی ہدایت کرتے ہو اور بدی سے روکتے ہو اور اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو۔پس اس آیت میں ایک حقیقی مسلمان کی خوبیاں بیان کی گئی ہیں کہ بدی سے روکنے والا ہے، نیکی کی تلقین کرنے والا ہے۔اور یہ کام اُس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک انسان اپنے قول و فعل میں ایک جیسا نہ ہو۔اگر ہمارے عمل ہماری باتوں سے مختلف ہیں تو ہمارے اپنے جو لوگ ہیں اُن پر بھی ہماری باتوں کا اثر نہیں ہوگا۔اور غیروں کی تو بات ہی الگ ہے۔جیسا کہ میں نے کہا اس مسجد کے بننے سے تبلیغ کے راستے بھی کھلیں گے لیکن اگر ہمارے عمل ایسے نہیں کہ جو خدا تعالیٰ نے بیان فرمائے ہیں تو نہ ہم خیر امت ہیں ، نہ ہمارا ایمان اللہ تعالیٰ پر ہے اور نہ ہی ہماری نمازیں کسی کام کی ہیں، نہ ہماری مالی قربانیاں خدا تعالیٰ کے ہاں قبول ہیں ، نہ ہمارا یہ دعوی سچا ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کا خوف رکھنے والے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنا ہمارا سب سے اولین فرض ہے اور پہلی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ کا ایک حکم ہے کہ وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا (البقرة: 84)۔کہ لوگوں سے نرمی اور ملاطفت سے بات کریں۔اس کا سب سے پہلا اظہار تو ہمارا آپس میں ہونا چاہئے اور خاص طور پر عہدیداروں کو اس طرف توجہ دینی چاہئے۔تبلیغ سے پہلے تو ہم نے اپنی