خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 291
خطبات مسرور جلد 11 291 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 17 مئی 2013ء اللہ تعالیٰ کے خوف سے دل پگھلتا ہے، انسان اُس کے آگے سجدہ ریز ہوتا ہے، اُس کی عبادت کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور صحیح عابد بننے کی کوشش کرتا ہے۔فرمایا: ” دوسرا حصہ عبادت کا یہ ہے کہ انسان خدا سے محبت کرے جو محبت کرنے کا حق ہے۔اسی لئے فرمایا ہے وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ (البقرة : 166 )۔اور دنیا کی ساری محبتوں کو غیر فانی اور آنی سمجھ کر حقیقی معبود اللہ تعالیٰ ہی کو قرار دیا جائے۔یہ دو حق ہیں جو اللہ تعالیٰ اپنی نسبت انسان سے مانگتا ہے۔ان دونوں قسم کے حقوق کے ادا کرنے کے لئے یوں تو ہر قسم کی عبادت اپنے اندر ایک رنگ رکھتی ہے مگر اسلام نے دو مخصوص صورتیں عبادت کی اس کے لئے مقرر کی ہوئی ہیں۔خوف اور محبت دو ایسی چیزیں ہیں کہ بظاہر اُن کا جمع ہونا بھی محال نظر آتا ہے کہ ایک شخص جس سے خوف کرے اُس سے محبت کیونکر کر سکتا ہے۔مگر اللہ تعالیٰ کا خوف اور محبت ایک الگ رنگ رکھتی ہے۔جس قدر انسان خدا کے خوف میں ترقی کرے گا اُسی قدر محبت زیادہ ہوتی جاوے گی۔اور جس قدر محبت الہی میں وہ ترقی کرے گا، اُسی قدر خدا تعالیٰ کا خوف غالب ہو کر بدیوں اور برائیوں سے نفرت دلا کر پاکیزگی کی طرف لے جائے گا۔“ ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 224-225۔ایڈ یشن 2003 مطبوعہ ربوہ ) پس یہ وہ مقام ہے جو ایک مومن کے لئے حاصل کرنا ضروری ہے۔پھر آگے آپ نے ان محبتوں کی تفصیل بیان فرمائی ہے کہ خوف کے لئے نمازیں ہیں اور محبت کے اظہار کے لئے حج کی عبادت ہے۔وہ ایک لمبا مضمون ہے۔تو بہر حال یہ مقام ہے جو ایک مومن کو حاصل کرنا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف اُس کی محبت کے حصول کا ذریعہ بن جائے اور جب یہ درجہ اور مقام حاصل ہوتا ہے تو پھر انسان صحیح عابد بنتا ہے اور مسجد کا حق ادا کرنے والا بنتا ہے۔اور یہ مقام ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے ہر ماننے والے میں پیدا کرنا چاہتے ہیں۔پس ہمیں اس مسجد کی تعمیر کے ساتھ اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ کس حد تک ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کرنے والے ہیں۔کس حد تک ہم خدا تعالیٰ سے محبت کے دعوے میں پورا اتر نے والے ہیں؟ کس حد تک ہم آپس میں ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے والے ہیں؟ کیونکہ عبادت کا حق تقویٰ کے بغیر ادا نہیں ہو سکتا۔اور تقویٰ اللہ تعالیٰ کے تمام حکموں پر عمل کئے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا۔اللہ تعالیٰ نے ہماری اصلاح کے لئے قرآن کریم میں بے شمار احکامات نازل فرمائے ہیں جن کے بجالانے کا ایک مومن کو حکم ہے اور تبھی وہ ہدایت یافتہ کہلا سکتا ہے۔میں بعض ، ایک دو احکامات کا ذکر کروں گا لیکن اُس سے پہلے یہ وضاحت کردوں کہ اس آیت میں جو میں نے پہلے تلاوت کی تھی اللہ تعالیٰ