خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 290
خطبات مسرور جلد 11 290 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 17 مئی 2013 ء کی رضا کے حصول کے لئے کی گئی عبادتیں اور اس دنیا میں اللہ تعالیٰ پر ایمان، ہدایت یافتوں میں شمار کروا کر خدا تعالیٰ کی جنتوں کا وارث بنائے گا۔پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی مساجد آباد کرنے والے جہاں نمازوں میں با قاعدگی اختیار کرتے ہیں، پنج وقت مسجد میں آتے ہیں، اُس کا حق ادا کرتے ہیں، وہاں مالی قربانیاں کرنے والے بھی ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے مالی قربانی کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمد یہ مالی قربانی کے لحاظ سے غیر معمولی قربانی کرنے والی ہے۔کم از کم ایک طبقہ ایسا ہے جو غیر معمولی قربانی کرنے والا ہے۔اس مسجد کی تعمیر میں بھی کئی افراد ایسے ہیں جنہوں نے لاکھ بلکہ لاکھوں ڈالر تک قربانی دی ہے۔مساجد کے لئے تو بعض غیر احمدی مسلمان بھی بڑھ چڑھ کر قربانیاں دے لیتے ہیں لیکن احمدی کی انفرادیت یہ ہے کہ وہ مستقل چندوں کی ادائیگی بھی کرتے ہیں اور پھر تحریکات میں بھی حصہ ڈالتے ہیں۔اس لحاظ سے اور خاص طور پر آجکل کے مادی دور میں اور معاشی حالات میں اُن کی قربانیاں بہت اہمیت رکھتی ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب قربانی کرنے والوں کے اموال ونفوس میں بھی بے انتہا برکت ڈالے۔لیکن یہ یاد رکھنا چاہئے کہ صرف ایک عمل تقویٰ کا معیار حاصل نہیں کرواتا، یا اُس سے ایمان کامل نہیں ہوتا بلکہ ایک مومن کے لئے حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کی ادائیگی ضروری ہے۔قرآن کریم نے ایمان لانے والوں کی بعض نشانیوں کا اور جگہوں پر بھی ذکر کیا ہے۔جن میں ایک آدھ کو میں مختصراً بیان کر دیتا ہوں۔کیونکہ ان باتوں کو اختیار کر کے ہی انسان حقیقی ہدایت یافتہ کہلا سکتا ہے اور انسان مسجدوں کا حق ادا کرنے والا بن سکتا ہے۔فرمایا وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُنَّا لِلَّهِ (البقرة : 166 ) کہ جو لوگ مومن ہیں وہ سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” محبت کا انتہا عبادت ہے۔اس لئے محبت کا لفظ حقیقی طور پر خدا سے خاص ہے۔( سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب۔روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 369) پھر آپ فرماتے ہیں کہ : ” عبادت کے دو حصے تھے۔ایک وہ جو انسان اللہ تعالیٰ سے ڈرے جو ڈرنے کا حق ہے۔خدا تعالیٰ کا خوف انسان کو پاکیزگی کے چشمہ کی طرف لے جاتا ہے اور اُس کی روح گداز ہوکر اُلوہیت کی طرف بہتی ہے اور عبودیت کا حقیقی رنگ اُس میں پیدا ہو جاتا ہے۔ایک تو یہ ہے کہ