خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 284
خطبات مسرور جلد 11 284 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 17 مئی 2013ء بیشک آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ چاہے غریبانہ ہی، چھوٹی سی مسجد ہو، لیکن یہ مسجد بنانا ضروری ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 4 صفحہ 93 ایڈ یشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) اس لئے شاید بعض ذہنوں میں خیال آئے کہ ہم اتنی بڑی مسجد یا مساجد کیوں بناتے ہیں؟ کیونکہ اب بعض جماعتوں کی طرف سے مساجد کا مطالبہ بڑھ رہا ہے۔بعضوں کے وسائل پورے نہیں اور مرکزی طور پر فنڈ مہیا کئے جاتے ہیں، تو خیال ہوسکتا ہے کہ چھوٹی مساجد ہوں تو اس رقم میں زیادہ مسجد میں بن سکتی ہیں۔لیکن ایک بنیادی اصول اگر ہم اپنے مد نظر رکھیں تو شاید یہ سوال نہ اُبھرے۔اور وہ ہے اتما الأَعْمَالُ بِالنِيَّاتِ کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔وینکوور برٹش کولمبیا کا سب سے بڑا شہر ہے۔احمدیوں کی تعداد بھی میرے خیال میں اس صوبے میں اسی شہر میں سب سے زیادہ ہے۔اور آپ کی تعداد کے لحاظ سے یہ کوئی بڑی مسجد نہیں ہے۔اور پھر خدا تعالیٰ اپنے فضل سے جو تبلیغ کے راستے کھول رہا ہے وہ بھی ہم سے تقاضا کرتے ہیں کہ ہماری جگہیں بھی وسیع ہونی چاہئیں۔پھر ہماری جگہوں میں وسعت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس الہام کے تحت بھی ضروری ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو فرمایا ہے کہ وسیع مكانك “ کہ تُو اپنے مکان کو وسیع کر۔( تذکرہ صفحہ 246 ایڈیشن چہارم مطبوعہ ربوہ ) مکانیت کی وسعت صرف گھروں میں مہمان ٹھہرانے کے لئے نہیں ہے۔لوگوں کے آنے کی وجہ سے، جلسہ کی وجہ سے نہیں تھی بلکہ مساجد کی وسعت کے لئے بھی یہ ضروری ہے، یہ الہام ہے۔اور مساجد کی وسعت بھی اسی زمرہ میں آتی ہیں۔پھر اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے ابراہیم کہہ کر مخاطب فرمایا۔(ماخوذ از براہین احمدیہ ہر چہار قصص روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 666 حاشیه در حاشیہ نمبر 4) اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ خانہ کعبہ کی تعمیر ہوئی۔خدا تعالیٰ کے سب سے پہلے گھر کو توحید کے قیام کے لئے دوبارہ اُس کی بنیادوں پر استوار کیا گیا اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے ہی یہ دنیا جانے گی اور جان بھی رہی ہے، اور یقیناً اس میں کوئی شک کی بات نہیں کہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ آپ کے ذریعہ سے ہوئی اور روحانی لحاظ سے خانہ کعبہ کی تعمیر کے مقاصد کو اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے ہی پورا ہونا ہے اور دنیا نے اس کو جاننا ہے۔مساجد جو ان مقاصد کو پورا کرنے کے لئے تعمیر کی جاتی ہیں کہ خدائے واحد کی عبادت کے لئے لوگ جمع ہوں۔اس لحاظ سے بھی ہمیں مساجد کی تعمیر کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔پس جیسا کہ