خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 23
خطبات مسرور جلد 11 مَنْ 23 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جنوری 2013ء اپنی قلم سے درست ہے یا ٹھیک ہے، لکھ دیتے تھے۔والد صاحب بیان کرتے ہیں کہ میرے دل میں شیطان نے وسوسہ ڈالا کہ یہ غلط باتیں ہیں۔( یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ روز روز حضوری ہورہی ہے اور روز ہی دیدار ہو رہا ہے۔تو کہتے ہیں ) قریب تھا کہ یہ وسوسہ زیادہ شدید ہو جائے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے میرا دامن پکڑ لیا اور مجھ کو غرق ہونے سے بچا لیا۔(وہ کس طرح بچایا ؟ ) کہتے ہیں رات کو میں بھی خواب میں اپنے آپ کو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں پاتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی وہاں پر تشریف فرما ہیں۔حاضرین مجلس میں سے کسی نے سوال کیا کہ حضور! مکہ کی نسبت تو یہ آیا ہے کہ دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا۔کہ اس میں جو داخل ہو گیا امن میں ہو گیا۔پھر یہ مکہ جناب کے لئے تو جائے امن نہ بنا۔( یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تو امن کی جگہ نہیں بنا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ میں جا کر پناہ لینی پڑی۔یہ خواب اپنی بیان کر رہے ہیں) کہتے ہیں اس کے جواب میں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ بھی تو ہے کہ ملکہ کو کوئی فتح نہیں کر سکتا۔میں نے اس کو فتح بھی تو کر لیا۔کیونکہ یہ میرے نکالے جانے کی وجہ سے میرے لئے حل ہو گیا کہ میں اس کو فتح کروں۔اور بھی کچھ خواب کا حصہ بیان کیا۔لیکن کہتے ہیں کہ میں کم علمی کی وجہ سے پورے طور پر اُس کو یاد نہیں رکھ سکا، بھول گیا ہوں۔پھر کہتے ہیں اُس کے بعد والد صاحب نے کہا کہ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔اس خواب کے بعد تہجد کا وقت تھا۔تہجد ادا کی اور مسجد میں چلا گیا۔صبح کو وہی دوست پھر تشریف لائے اور انہوں نے رات کی سرگذشت کا پی پر لکھی ہوئی حضور کے سامنے رکھ دی۔حضور نے پھر اس پر اپنی قلم سے تصدیق فرما دی۔میں نے وہ پڑھا تو وہی خواب جو کہ میں عرض کر چکا ہوں یعنی وہی سوال اور وہی جواب ہے جو میں نے عرض کیا ہے۔( یعنی ان کو بھی جو خواب آئی تھی ، وہی اُس دوست نے بھی سنائی۔) اس طرح کہتے ہیں خدا تعالیٰ نے اُس وقت میری دستگیری فرمائی اور مجھے ہلاکت سے بچالیا کہ یہ خوا ہیں جو بیان کرتے ہیں وہ سچی خوا ہیں ہیں۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ۔غیر مطبوعہ۔جلد نمبر 12 صفحہ 272 تا 274 - از روایات حضرت مولوی جلال الدین صاحب) اس طرح حضرت مولوی فضل الہی صاحب ( 1892ء کی ان کی بیعت ہے ) بیان کرتے ہیں کہ بندہ کو امرتسر جناب قاضی سید امیر حسین صاحب مرحوم کے پاس آنے سے احمدیت کا علم ہوا۔بندہ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے لئے ماہ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کے ایام میں بہت دعا استخارہ کی اور دعا میں یہ درخواست تھی کہ مولیٰ کریم ! مجھے اطلاع فرما کہ جس حالت میں اب