خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 277
خطبات مسرور جلد 11 277 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 10 مئی 2013ء کے مطابق ہو۔کیونکہ ان کی سپینش اور پین میں بولی جانے والی سپینش میں بعض جگہ بعض الفاظ میں کافی فرق ہے۔اور ہمارالٹر پر عموماً سپین میں تیار ہوتا ہے۔تو جب میں نے انہیں کہا کہ پین پر توجہ ہے، وہاں کا لٹریچر فی الحال استعمال کریں تو کہنے لگے کہ آپ کو وہاں کی فکر ہے جہاں صرف چالیس ملین لوگ آباد ہیں اور یہاں چارسولین سپینش بولنے والے ہیں ان کی آپ کو فکر نہیں ہے۔تو یہ ہیں وہ حقیقی مددگار اور داعین الی اللہ جو اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عطا فرما رہا ہے۔پس اب لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر زمینیں بھی ہموار کرتی چلی جارہی ہے۔امریکہ میں بھی اور ساتھ کے ہمسایہ ملکوں میں بھی اللہ تعالیٰ نے ہوا چلا دی ہے۔یہی کہا جاتا ہے کہ کیلیفورنیا میں تو اب ہسپانوی لوگوں کی اکثریت ہو چکی ہے جن میں بظاہر یہ لگتا ہے کہ مذہب کی طرف رجحان بھی ہے لیکن اب ان کو سچے مذہب کی تلاش ہے۔پس اس علاقے کے لئے ایک خاص پروگرام بننا چاہئے اور یہاں رہنے والوں کو اپنی ذمہ داری ادا کرنے کی طرف توجہ دینی چاہئے۔فی الحال جولٹریچر مہیا ہے اُسی کو استعمال کریں، اُسی سے استفادہ کریں اور جلد از جلد یہاں کی زبان کے مطابق بھی لٹریچر کو ڈھالنے کی کوشش کریں۔مجھے اپنی اس سوچ کو کہ یہاں احمدیت کے لئے میدان وسیع ہے اُس وقت بھی مزید تقویت ملی جب ہمارے مبلغ اظہر حنیف صاحب کا ایک خط یہاں آنے سے کچھ دن پہلے میرے سامنے آیا جس میں انہوں نے حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی ایک رؤیا کے بارے میں لکھا تھا ، جس کو انہوں نے غالباً اپنے کسی خطبے میں بیان کیا تھا۔اس وقت وہ خط تو میرے سامنے نہیں ہے لیکن جہاں تک مجھے یاد ہے رویا یہ تھی۔انہوں نے دیکھا تھا کہ لوگوں کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے جو احمد یوں کا ہے اور وہاں حضرت خلیفة امسیح الرابع کہتے ہیں کہ مجھے یہ لگا کہ وہ علاقہ ایسا ہے جیسا لاس اینجلس کا علاقہ ہے۔پس اگر ہم کوشش کریں۔ہم میں سے ہر ایک اس کوشش میں لگ جائے ، حقیقی انقلاب اُس وقت آتا ہے، یا جلد اُس کے آثار شروع ہوتے ہیں جب لوگ بھی اُس کے لئے کوشش کریں۔تو یہ تو یقیناً الہی تقدیر ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے ساتھ کئے گئے غلبہ کے وعدے کو پورا فرمانا ہے لیکن اگر ہم اس وعدے کے پورا ہونے کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو پھر یہاں رہنے والے ہر احمدی کو اپنی سوچوں کا دھارا اُس کے مطابق کرنا ہو گا جو اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے۔بعض لوگ یہ سوچ رکھتے ہیں اور اُن کی سوچ صرف اپنی کم ہمتی کی وجہ سے ہے کہ یہ دنیا دار لوگ ہیں، ان کو دین سے کوئی غرض نہیں۔یہاں تو دنیا کی سب سے بڑی فلم انڈسٹری ہے۔یہاں تو دنیا کی ہاؤسہو بہت ہے۔ٹھیک ہے یہ سب کچھ ہے لیکن ایک بہت بڑا طبقہ