خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 252
خطبات مسرور جلد 11 252 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 اپریل 2013ء دعوی بھی کرتی ہے کہ اسلام کی حقیقی تعلیم پر عمل کرنے والے صرف ہم ہیں۔مسلموں جب میں غیروں کے جماعت کے حق میں ایسے تبصرے سنتا ہوں اور جب بھی غیر مسہ کے سامنے اسلام کی خوبصورت تعلیم پیش کرتا ہوں تو ساتھ ہی یہ فکر بھی پیدا ہوتی ہے، اس طرف توجہ پیدا ہوتی ہے کہ ہمیں اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ ہم کس حد تک اس تعلیم پر عمل کر رہے ہیں۔صرف یہی تو نہیں کہ ہم دنیا کے سامنے یہ خوبصورت تعلیم رکھ کر عارضی طور پر اعتراض کرنے والوں کا منہ بند کر رہے ہیں اور اسی کو کافی سمجھتے ہیں۔اور جب وقت آئے اور دنیا ہمیں پر کھے تو اس تعلیم کا اعلیٰ معیار ہم میں موجود نہ ہو۔کسی بھی جماعت کی سچائی کا پتہ یا کسی بات کی صداقت کا ثبوت اُس وقت ملتا ہے جب اپنی ذات پر ایسے حالات آئیں جو ہمیں مشکل میں ڈالنے والے ہوں اور پھر ہم میں سے ہر ایک اپنی ذات کو مشکل میں ڈال کر خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر اُس کی تعلیم پر اُس کے احکامات پر عمل کرنے والا ہو۔اور اس معیار کا عمل کرنے والا ہو کہ عمل کرتے ہوئے اُس حالت سے کامیاب ہوکر نکلے۔ورنہ تعلیم کی خوبصورتی کا بغیر عمل اظہار کسی جماعت کو من حیث الجماعت خوبصورت نہیں بنا دیتی۔کئی غیر احمدی مسلمان ہیں جو غیروں کے سامنے یہ تعلیم پیش کرتے ہوں گے لیکن اُن کا اس تعلیم کو اسلام کی خوبصورتی کی دلیل کے طور پر پیش کرنا صرف اُن کی ذات کو شاید غیر مسلموں کی نظر میں اچھا بناتا ہوگا اور وہ اُس شخص کے اخلاق کی وجہ سے یا تعلق کی وجہ سے مذہب پر اعتراض کرنے سے رُک جاتے ہوں۔لیکن ایک احمدی کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ جب وہ اسلام کی خوبصورت تعلیم دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے تو ساتھ ہی اپنا تعارف ایک احمدی مسلمان کی حیثیت سے کرواتا ہے۔اور ایسے انسان کی حیثیت سے کرواتا ہے جو اس زمانے میں اسلام کی نشأة ثانیہ کا دعویٰ لے کر کھڑے ہونے والے کے پیروکار ہیں۔یہ اس بات کا تعارف کرواتا ہے کہ ہم اُس مسیح موعود اور مہدی معہود کے ماننے والے ہیں جو اسلام کی خوبصورت تعلیم دنیا میں پیش کرنے آیا اور ایک جماعت قائم کی ہے۔احمدی کی طرف سے اسلام کی خوبصورت تعلیم کا بیان صرف ایک احمدی کی ذات کو تعریف کے قابل نہیں بنا تا بلکہ ایک امن پسند، انصاف پر قائم رہنے والی اور سچائی کا اظہار کرنے والی ، اسلام کی حقیقی تعلیم پر عمل کرنے والی جماعت کا تصور غیروں کے سامنے اُبھرتا ہے اور اُبھرنا چاہئے۔اور اگر کوئی احمدیوں کے قول و فعل میں تضاد دیکھتا ہے تو وہ یہ نہیں کہے گا کہ فلاں شخص کہتا کچھ ہے اور کرتا کچھ ہے، یا اُس میں سچائی کا