خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 251 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 251

خطبات مسرور جلد 11 251 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 اپریل 2013ء اللہ نے اُن لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو ایمان لائے اور نیک اعمال بجالائے کہ اُن کے لئے مغفرت اور بہت بڑا اجر ہے۔مخالفین اسلام وقتا فوقتا اسلام اور مسلمانوں پر شدت پسندی اور غیر مسلموں کے لئے دلوں میں بغض و کینہ رکھنی یا پیدا کرنے کا الزام لگاتے رہتے ہیں۔ہر دہشت گردی کا واقعہ جو ہوتا ہے دنیا میں، چاہے جو مسلمان کہلانے والے ہیں، اُن کی طرف سے ہوا ہو یا کسی اور کی طرف سے، یا جو کارروائی بعض نام نہاد اسلام پسند گروہ یا جہادی تنظیمیں کرتی ہیں ، انہیں اسلامی تعلیم کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔اور پھر قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو انتہائی لغو اور بیہودہ الفاظ میں نشانہ بنایا جاتا ہے۔آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے زمانے کے امام اور عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت ہے جو مخالفین اسلام کے ہر الزام کو قرآن کریم کی تعلیم کی روشنی میں رڈ کرتی ہے، اور ہر بیہودہ گوئی کا جواب دے کر مخالفین اسلام کو اُن کا آئینہ دکھاتی ہے۔ہماری طرف سے علاوہ قرآنِ کریم کی مختلف آیات کے جو اس شدت پسندی وغیرہ کے لئے پیش کی جاتی ہیں، یہ آیات جو میں نے تلاوت کی ہیں، یہ بھی پیش کی جاتی ہیں کہ اسلام کی انصاف پسند اور انتہائی اعلیٰ معیار کی تعلیم کیا ہے؟ یہ ایسی اعلیٰ تعلیم ہے کہ ہر انصاف پسند غیر مسلم اس تعلیم کو سن کر اس تعلیم کی تعریف کئے بغیر نہیں رہتا لیکن ساتھ ہی یہ سوال بھی کرتا ہے کہ اس تعلیم پر عمل کہاں ہے؟ جو غیر مسلم لوگ افراد جماعت کے ساتھ تعلق رکھنے والے ہیں ، وہ جانتے بھی ہیں اور عموماً کہتے بھی ہیں کہ ٹھیک ہے تمہاری جماعت کے افراد میں اس تعلیم کی جھلک نظر آتی ہے لیکن تم تو مسلمانوں میں ایک بہت قلیل جماعت ہو، بہت تھوڑی سی جماعت ہو۔اسلام کی عمومی تصویر تو ہم نے مسلمانوں کے دوسرے فرقوں میں ہی دیکھنی ہے۔ان لوگوں کو افراد جماعت جن سے بھی ان کا واسطہ ہے اپنے اپنے فہم کے مطابق جواب دیتے ہیں اور عموماً غیروں پر اس کا اچھا اثر بھی ہے۔لیکن ہمیں حقیقت پسند ہونے کی بھی ضرورت ہے اور اپنے جائزے لینے کی بھی ضرورت ہے۔ہم بیشک قرآنی تعلیم کی رو سے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کے حوالے سے مخالفین کی تسلی کروانے کی کوشش کرتے ہیں اور کافی حد تک کامیاب بھی ہو جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اب دنیا میں مختلف اخباروں میں لکھنے والے جب بھی اسلام کے بارے میں لکھتے ہیں تو بعض دفعہ نام لے کر اور بعض دفعہ بغیر نام کے اشارہ یہ بات کرتے ہیں کہ اسلام میں اقلیتی جماعت ہے جو اس شدت پسندی کے خلاف ہے جو عام طور پر مسلمانوں میں نظر آتی ہے۔اور یہ جماعت ہے جو انصاف کو دنیا میں قائم کرنا چاہتی ہے اور یہ