خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 243 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 243

خطبات مسرور جلد 11 243 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 اپریل 2013ء پس ہر مسلمان کا فرض ہے کہ تقویٰ کو تلاش کر کے اُس پر قدم مارنے کی کوشش کرے۔موت کو سامنے رکھے جس کا کوئی بھی وقت ہو سکتا ہے۔کوئی نہیں کہہ سکتا کہ میری اتنی زندگی ہے۔اور وہ عمل کرے جو خدا تعالیٰ کا حق بھی ادا کرنے والے ہوں اور اُس کے بندوں کا حق بھی ادا کرنے والے ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض اقتباسات پیش کرتا ہوں جن سے آپ کی اہمیت اور مسلمانوں کو آپ کے ماننے کی ضرورت واضح ہو جاتی ہے اور اگر یہ نہیں تو پھر یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے کہ ترقی وہی لوگ کریں گے جو سچے دل سے عمل کرتے ہوئے مسیح موعود علیہ السلام کو مانیں گے۔آپ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ: میں چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کے دلوں میں جو خدا تعالیٰ کی بجائے دنیا کے بت کو عظمت دی گئی ہے، اس کی امانی اور امیدوں کو رکھا گیا ہے۔مقدمات صلح جو کچھ ہے وہ دنیا کے لیے ہے، اس بت کو پاش پاش کیا جاوے اور اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جبروت ان کے دلوں میں قائم ہو اور ایمان کا شجر تازہ بہ تازہ پھل دے۔اس وقت درخت کی صورت ہے مگر اصل درخت نہیں کیونکہ اصل درخت کے لیے تو فرمایا: أَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيْبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ تُؤْتي أكلَهَا كُلَّ حِينٍ بِاِذْنِ رَبَّا۔( ابراہیم : 25-26 ) یعنی کیا تو نے نہیں دیکھا کہ کیونکر بیان کی اللہ نے مثال یعنی مثال دینِ کامل کی کہ وہ بات پاکیزہ درخت پاکیزہ کی مانند ہے جس کی جڑھ ثابت ہو اور جس کی شاخیں آسمان میں ہوں اور وہ ہر وقت اپنا پھل اپنے پروردگار کے حکم سے دیتا ہے۔أَصْلُهَا ثَابِت سے یہ مراد ہے کہ اصول ایما نیہ اس کے ثابت اور محقق ہوں اور یقین کامل کے درجہ تک پہنچے ہوئے ہوں اور وہ ہر وقت اپنا پھل دیتا رہے۔کسی وقت خشک درخت کی طرح نہ ہو۔مگر بتاؤ کہ کیا اب یہ حالت ہے؟ بہت سے لوگ کہہ تو دیتے ہیں کہ ضرورت ہی کیا ہے؟ اس بیمار کی کیسی نادانی ہے جو یہ کہے کہ طبیب کی حاجت ہی کیا ہے؟ وہ اگر طبیب سے مستغنی ہے اور اس کی ضرورت نہیں سمجھتا تو اس کا نتیجہ اس کی ہلاکت کے سوا اور کیا ہوگا؟ اس وقت مسلمان اسلمنا میں تو بے شک داخل ہیں مگر امنا کی ذیل میں نہیں اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب ایک نور ساتھ ہو۔غرض یہ وہ باتیں ہیں جن کے لیے میں بھیجا گیا ہوں اس لیے میرے معاملہ میں تکذیب کے لیے جلدی نہ کرو بلکہ خدا تعالیٰ سے ڈرو اور تو بہ کرو کیونکہ تو بہ کرنے والے کی عقل تیز ہوتی ہے۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 565-566۔ایڈیشن 2003، مطبوعہ ربوہ ) پھر آپ نے طاعون کے نشان کی مثال دی ہے کہ: ’ طاعون کا نشان بہت خطرناک نشان ہے اور خدا تعالیٰ نے اس کے متعلق مجھ پر جو کلام نازل کیا