خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 242 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 242

خطبات مسرور جلد 11 242 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 اپریل 2013ء کے اپنی اصلی حالت میں موجود ہونے کے عموماً مسلمانوں کی دینی ، روحانی، اخلاقی حالت جو ہے وہ گر رہی ہے۔تقو می ختم ہو گیا ہے۔اللہ تعالیٰ کے حکموں کی اطاعت اور فرمانبرداری سے مسلمانوں کی اکثریت باہر نکل چکی ہے۔پس سوچنے والی بات ہے کہ ان حالات میں کوئی ایسا طریق ہونا چاہئے جو اصلاح پیدا کرے۔کوئی ایسا شخص ہو جو اسلام کی تعلیم کی روح کو سمجھے اور آگے مسلمانوں میں جاری کرے۔ہم احمدی تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے خوش قسمت ہیں جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے وہ شخص اپنے وعدے کے مطابق اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق چودھویں صدی میں بھیج دیا۔وہ اللہ تعالیٰ کی رہنمائی میں قرآن کریم کے علم و عرفان کے خزائن کو وضاحت سے اپنی کتب میں بیان کر کے حق و باطل کے فرق کو ظاہر کر کے، اسلام کی برتری دنیا کے تمام ادیان پر ثابت کر کے، دشمنوں کو کھلے چیلنج دے کر اور اپنے ساتھ خدا تعالیٰ کی تائیدات کی مہر ثبت کر کے، دشمنوں کے منہ بند کر کے، ایک لمبا عرصہ زندگی گزار کر خدا تعالیٰ کے حضور حاضر ہو گیا اور اپنے پیچھے خدا تعالیٰ کی تائیدات سے تا قیامت جاری رہنے والا سلسلہ چھوڑ گیا جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ترقی کی راہوں پر آگے سے آگے بڑھ رہا ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے ارضی و سماوی تائیدات جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں مختلف آفات کی صورت میں بھی ظاہر ہوئیں، اُن کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔کیا اہلِ پاکستان کے لئے اور عامۃ المسلمین کے لئے یہ زلزلے، یہ آفات، یہ سیلاب، یہ دنیا میں مسلمانوں کی بے وقعتی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی نہیں ہے؟ اب گزشتہ دنوں جو زلزلہ آیا، وہ صرف ایک ملک میں نہیں تھا۔پاکستان میں بھی اُس سے نقصان ہوا۔ایران میں بھی ہوا۔افغانستان میں، شرک اوسط کے ممالک میں ، بلکہ انڈونیشیا تک چلا گیا۔تو یہ اللہ تعالیٰ کی جو تقدیر چل رہی ہے اس پر مسلمانوں کو غور کرنے کی ضرورت ہے۔تو بہ کی ضرورت ہے۔استغفار کی ضرورت ہے۔نام نہاد علماء سے ڈرنے کی بجائے اُنہیں آئینہ دکھانے کی ضرورت ہے کہ کیوں ہمیں اسلام کی تعلیم کے خلاف باتیں بتاتے ہو۔کہیں ایک واقعہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت میں سے ایسا بیان کر دیں کہ آپ نے ایسا کیا جو یہ تعلیم دیتے ہیں ، یا ایسی تعلیم دی جو آجکل کے علماء دے رہے ہیں۔پس یہ اسلام جو علماء ہمیں بتاتے ہیں، وہ اسلام نہیں ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے اسلام کی تعریف تو محبت، پیار، امن ، سلامتی اور تکلیفوں کو دور کرنا ہے، نہ کہ اسلام کے نام پر اپنے ذاتی مفادات کی خاطران تکلیفوں کو اور زیادہ کرنا ہے۔