خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 229 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 229

خطبات مسرور جلد 11 229 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 اپریل 2013ء اور تمام اعضاء اور جان اور مال اور عزت وغیرہ ان کو حتی الوسع اپنی بپا بندی تقویٰ بہت احتیاط سے اپنے اپنے محل پر استعمال کرتے رہتے ہیں اور جو عہد ایمان لانے کے وقت خدا تعالیٰ سے کیا ہے کمال صدق سے حتی المقدور اُس کے پورا کرنے کے لئے کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ایسا ہی جو امانتیں مخلوق کی اُن کے پاس ہوں یا ایسی چیزیں جو امانتوں کے حکم میں ہوں، اُن سب میں تابمقد ورتقویٰ کی پابندی سے کار بند ہوتے ہیں۔اگر کوئی تنازع واقع ہو تو تقویٰ کو مد نظر رکھ کر اُس کا فیصلہ کرتے ہیں۔گو اس فیصلہ میں نقصان اُٹھالیں۔فرمایا :۔۔۔۔انسان کی تمام روحانی خوبصورتی تقویٰ کی تمام باریک راہوں پر قدم مارنا ہے۔تقویٰ کی باریک راہیں روحانی خوبصورتی کے لطیف نقوش اور خوش نما خط و خال ہیں۔اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کی امانتوں اور ایمانی عہدوں کی حتی الوسع رعایت کرنا اور سر سے پیر تک جتنے قومی اور اعضاء ہیں، جن میں ظاہری طور پر آنکھیں اور کان اور ہاتھ اور پیر اور دوسرے اعضاء ہیں اور باطنی طور پر دل اور دوسری قو تیں اور اخلاق ہیں۔ان کو جہاں تک طاقت ہو ، ٹھیک ٹھیک محلتِ ضرورت پر استعمال کرنا اور نا جائز مواضع سے روکنا اور ان کے پوشیدہ حملوں سے متنبہ رہنا اور اسی کے مقابل پر حقوق عباد کا بھی لحاظ رکھنا، یہ وہ طریق ہے کہ انسان کی تمام روحانی خوبصورتی اس سے وابستہ ہے۔اور خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں تقوی کو لباس کے نام سے موسوم کیا ہے۔چنانچہ لِبَاسُ التَّقْویٰ قرآن شریف کا لفظ ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ روحانی خوبصورتی اور روحانی زینت تقویٰ سے ہی پیدا ہوتی ہے۔اور تقویٰ یہ ہے کہ انسان خدا کی تمام امانتوں اور ایمانی عہد اور ایسا ہی مخلوق کی تمام امانتوں اور عہد کی حتی الوسع رعایت رکھے۔یعنی اُن کے دقیق در دقیق پہلوؤں پر تابمقدور کار بند ہو جائے۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 208 تا210) پس جب تک تقویٰ کے معیار اونچے نہیں ہوں گے، اُس وقت تک اپنی امانتوں اور عہدوں کا حق ادا نہیں ہوسکتا۔یہ امانتیں جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا، خدا تعالیٰ کی بھی ہیں اور بندوں کی بھی۔اور ایک عہدیدار خاص طور پر دونوں طرح کی امانتوں کا امین متصور ہوتا ہے اور ہے۔پس میں پھر افراد جماعت کو ، جنہوں نے اپنے عہدیدار منتخب کرنے ہیں توجہ دلاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے ہوئے ، اُن کے حق میں رائے دیں جو دونوں طرح کی امانتوں اور عہدوں کا حق ادا کرنے والے ہوں۔اور یہ اُسی وقت ہو سکتا ہے جب ہر طرح جماعت کا تقویٰ کا معیار بھی بلند ہو۔جب ہر ووٹ