خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 228
خطبات مسرور جلد 11 228 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 اپریل 2013ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” خدا تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں ذکر فرمایا ہے۔(یعنی آیتِ کریمہ ) وَالَّذِينَ هُمْ لِأَمَنتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رُعُونَ۔۔۔۔جوصرف اپنے نفس میں یہی کمال نہیں رکھتے جونفس اتارہ کی شہوات پر غالب آگئے ہیں اور اس کے جذبات پر اُن کو فتح عظیم حاصل ہو گئی ہے بلکہ وہ حتی الوسع خدا اور اُس کی مخلوق کی تمام امانتوں اور تمام عہدوں کے ہر ایک پہلو کا لحاظ رکھ کر تقویٰ کی باریک راہوں پر قدم مارنے کی کوشش کرتے ہیں اور جہاں تک طاقت ہے اُس راہ پر چلتے ہیں۔ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 207) فرمایا: " لفظ راغون “ جو اس آیت میں آیا ہے جس کے معنی ہیں رعایت رکھنے والے۔یہ لفظ عرب کے محاورہ کے موافق اُس جگہ بولا جاتا ہے جہاں کوئی شخص اپنی قوت اور طاقت کے مطابق کسی امر کی بار یک راہ پر چلنا اختیار کرتا ہے اور اس امر کے تمام دقائق بجالا نا چاہتا ہے۔( یعنی باریک ترین پہلو بجا لانا چاہتا ہے )۔اور کوئی پہلو اس کا چھوڑنا نہیں چاہتا۔پس اس آیت کا حاصل مطلب یہ ہوا کہ وہ مومن جو۔حتی الوسع اپنی موجودہ طاقت کے موافق تقویٰ کی باریک راہوں پر قدم مارتے ہیں اور کوئی پہلو تقویٰ کا جوامانتوں یا عہد کے متعلق ہے، خالی چھوڑنا نہیں چاہتے اور سب کی رعایت رکھنا اُن کا ملحوظ نظر ہوتا ہے اور اس بات پر خوش نہیں ہوتے کہ موٹے طور پر اپنے تئیں امین اور صادق العہد قرار دے دیں“۔(اپنے آپ کو امین سمجھیں یا وعدے پورے کرنے والا قرار دے دیں بلکہ ڈرتے رہتے ہیں کہ در پردہ اُن سے کوئی خیانت ظہور پذیر نہ ہو۔پس طاقت کے موافق اپنے تمام معاملات میں تو جہ سے غور کرتے رہتے ہیں کہ ایسا نہ ہو کہ اندرونی طور پر اُن میں کوئی نقص اور خرابی ہو اور اسی رعایت کا نام دوسرے لفظوں میں تقویٰ ہے۔(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 207-208) پھر آپ فرماتے ہیں: خلاصہ مطلب یہ کہ وہ مومن جو۔۔۔اپنے معاملات میں خواہ خدا کے ساتھ ہیں ، خواہ مخلوق کے ساتھ بے قید اور خلیع الرسن نہیں ہوتے بلکہ اس خوف سے کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک کسی اعتراض کے نیچے نہ آ جاویں اپنی امانتوں اور عہدوں میں دُور دُور کا خیال رکھ لیتے ہیں اور ہمیشہ اپنی امانتوں اور عہدوں کی پڑتال کرتے رہتے ہیں اور تقویٰ کی دُوربین سے اُس کی اندرونی کیفیت کو دیکھتے رہتے ہیں تا ایسا نہ ہو کہ در پردہ اُن کی امانتوں اور عہدوں میں کچھ فتور ہو۔اور جو امانتیں خدا تعالیٰ کی اُن کے پاس ہیں جیسے تمام قویٰ