خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 224 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 224

خطبات مسرور جلد 11 224 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 اپریل 2013ء یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے، اس میں اس بات کی وضاحت فرمائی گئی ہے۔اس آیت میں پہلی ذمہ داری رائے دہی کا حق ادا کرنے والوں کی ہے کہ عہدہ ایک امانت ہے اس لئے تمہاری نظر میں جو بہترین شخص ہے اُس کے حق میں اپنا ووٹ استعمال کرو۔ووٹ دینے سے پہلے یہ جائزہ لو کہ آیا یہ اس عہدہ کا اہل بھی ہے کہ نہیں۔جس کے حق میں تم ووٹ دے رہے ہو یا ووٹ دینا چاہتے ہو وہ اس عہدہ کا حق ادا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے یا نہیں؟ جتنی بڑی ذمہ داری کسی کے سپر د کر نے کے لئے آپ خلیفہ وقت کو مشورہ دینے کے لئے جمع ہوئے ہیں، اتنی زیادہ سوچ بچار اور دعا کی ضرورت ہے۔یہ نہیں کہ یہ شخص مجھے پسند ہے تو اُسے ووٹ دیا جائے۔یا فلاں میرا عزیز ہے تو اُسے ووٹ دیا جائے۔یا فلاں میرا برادری میں سے ہے، شیخ ہے، جٹ ہے، چوہدری ہے، سیڈ ہے، پٹھان ہے، راجپوت ہے، اس لئے اُس کو ووٹ دیا جائے۔کوئی ذات پات عہدیدار منتخب کرنے کی راہ میں حائل نہیں ہونی چاہئے۔اللہ تعالیٰ جواب طلبی صرف عہد یدار کی نہیں کرتا کہ کیوں تم نے صحیح کام نہیں کیا۔بلکہ ووٹ دینے والے بھی پوچھے جائیں گے کہ کیوں تم نے رائے دہی کا اپنا حق صحیح طور پر استعمال نہیں کیا۔اللہ تعالیٰ نے آیت کے آخر میں یہ فرمایا کہ اِنَّ اللهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا کہ اللہ تعالیٰ بہت سنے والا اور گہری نظر رکھنے والا ہے۔یہ ووٹ ڈالنے والوں کے لئے بھی ہے کہ اگر تمہیں کسی کے بارے میں صحیح معلومات نہیں تو خدا تعالیٰ سے دعا کرو کہ اے خدا ! تیری نظر میں جو بہترین ہے، اُسے ووٹ ڈالنے کی مجھے تو فیق عطا فرما۔اور نیک نیتی سے کی گئی اس دعا کو خدا تعالیٰ جو سمیع و بصیر ہے، وہ سنتا ہے۔فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بصیر بھی ہے۔اُس کی تمہارے عملوں پر گہری نظر ہے۔خدا تعالیٰ کو دھوکہ نہیں دیا جا سکتا۔وہ دلوں کی پاتال تک سے واقف ہے۔پس جب مومنین کی جماعت خدا تعالیٰ سے دعائیں مانگتے ہوئے عہد یدار منتخب کرتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ مومنین کا مددگار بھی ہو جاتا ہے۔جماعتی نظام میں تو ہماری یہ روایت ہے کہ ہر کام سے پہلے ہم دعا کرتے ہیں، دعا سے کام شروع کرتے ہیں۔انتخابات سے پہلے بھی دعا کروائی جاتی ہے۔اگر خالص ہو کر اللہ تعالیٰ سے رہنمائی لیتے ہوئے انتخابات کی کارروائی کی جائے تو اللہ تعالیٰ پھر اپنے فضلوں اور برکتوں سے نوازتا ہے۔پس ہر ووٹ دینے والا اپنے ووٹ کی ، اپنے رائے دہی کے حق کی اہمیت کو سمجھے۔ہر قسم کے ذاتی رجحانات یا ذاتی پسندوں اور ذاتی تعلقات سے بالا ہو کر جس کام کے لئے کسی کو منتخب کرنا چاہتے ہیں، اُس کے حق میں اپنی رائے دیں۔پرانے احمدی تو جانتے ہیں ، نئے آنے والوں پر بھی واضح ہونا چاہئے ،