خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 213
خطبات مسرور جلد 11 213 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 5 اپریل 2013ء کے حکموں کے مطابق ہمیں ڈھالنا ہو گا۔حقیقی اسلام کی تلاش کی پیاس ہم ہی بجھا سکتے ہیں۔ایک احمدی ہی بجھا سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے جو یہ فرمایا کہ سمجھو کہ اسلام کی ترقی کی بنیاد مسجد بنانے سے پڑ گئی تو ساتھ ہی یہ شرط بھی لگادی کہ قیام مسجد میں نیت بہ اخلاص ہو، تب فائدہ ہوگا۔پس مسجد کے قیام اور مسجد کی آبادی میں اخلاص ہی کام آئے گا۔نہ کہ کوئی چالا کی ، نہ ہوشیاری ، نہ علم، نہ عقل۔گو یہ چیزیں بھی ساتھ ساتھ کام کرتی ہیں لیکن اخلاص پہلی اور بنیادی چیز ہے۔اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول پہلی اور بنیادی چیز ہے۔اور جب ذاتی مفادات اور عہدوں اور اناؤں سے اونچا ہو کر سوچیں گے تو پھر انشاء اللہ تعالیٰ مسجد بشارت پید رو آباد کی برکت بھی ہمیں نظر آئے گی اور مسجد بیت الرحمن ویلنسیا کی تعمیر کے خوش کن نتائج بھی ہم دیکھیں گے۔اس مسجد کے افتتاح میں جیسا کہ میں نے بتایا، پھر ریسپشن ہوئی ، اور اتنے بڑے پیمانے پر یہ پہلی ریسپشن جماعت احمد یہ پین نے آرگنائز کی تھی جس میں ہمسایوں کے علاوہ پڑھے لکھے لوگ اور سرکاری افسران اور سیاستدان بھی آئے۔ہر طبقے کے لوگ تھے اور بڑا اچھا اثر لے کر گئے ہیں۔اکثر نے یہ کہا کہ اسلام کی خوبصورت تعلیم آج ہم نے پہلی دفعہ سنی ہے۔بعض نے کہا ہم بڑے جذباتی ہو رہے تھے بلکہ بعض تو خدا تعالیٰ کا انکار کرنے والے ہیں، جنہیں ایتھی اسٹ (Atheist) کہتے ہیں، انہوں نے بھی کہا کہ ہمیں بہت کچھ مذہب کے بارے میں پتہ چلا بلکہ ڈاکٹر منصور صاحب کہہ رہے تھے کہ ان کے ایک واقف کار ڈاکٹر ہیں وہ کافی جذباتی تھے۔پس آج خدا تعالیٰ کی ہستی پر یقین اور مذہب کی خوبصورتی اگر کوئی بتا سکتا ہے تو جماعت احمدیہ ہے۔وہ لوگ ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے والے ہیں۔وہ لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہیں ، جن کے لئے اللہ تعالیٰ نے حبل اللہ کو پکڑنے کے سامان کئے ہوئے ہیں۔یہ آپ لوگ بعد میں پروگراموں میں بھی دیکھ لیں گے، رپورٹس میں بھی شائع ہو جائے گا۔ایم ٹی اے نے بھی ریسپشن میں آنے والے بہت سارے لوگوں کے انٹرویور یکارڈ کئے ہیں جنہوں نے مسجد کے بارے میں بھی ، اسلام کے بارے میں بھی اپنے تاثرات بیان کئے ہیں۔ان میں جیسا کہ میں نے کہا کہ ویلنسیا کی اسمبلی کے سپیکر بھی تھے۔یہ کہیں گئے ہوئے تھے، شاید میڈرڈ گئے ہوئے تھے۔یہاں رہنے والے جانتے ہی ہیں کہ کتنا فاصلہ ہے۔ٹرین پر بھی تقریباً دو گھنٹے لگ جاتے ہیں۔اُن کو