خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 212
خطبات مسرور جلد 11 212 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 5 اپریل 2013ء اختلاف جو ہماری اکائی کو نقصان پہنچانے والے ہوں، جو ہمارے ذمہ کا موں کو بجالانے اور اُن کے اعلیٰ نتائج نکالنے میں روک بننے والے ہوں تو یقیناً ہم خدا تعالیٰ کے آگے جوابدہ ہوں گے۔جیسا کہ میں نے پچھلے خطبہ میں بھی بتایا تھا کہ صدیوں پہلے ہزاروں سپینش جن کی بنیا د اسلام تھی ، ان میں سے ہزاروں لوگ ایسے ہیں جو اسلام میں دوبارہ داخل ہوئے ہیں اور ہور ہے ہیں لیکن حقیقی اسلام کا ابھی ان کو پتہ نہیں تو حقیقی اسلام سے ہم نے انہیں آگاہ کرنا ہے۔یورپ اور دوسرے مغربی ممالک میں وہاں کے مقامی کئی ایسے احمدی ہیں جو روحانیت کی تلاش میں مسلمان ہوئے لیکن مسلمان لیڈروں یا علماء نے اُنہیں اُس روحانی مقام کی طرف رہنمائی نہیں کی جس کی اُن کو تلاش تھی تو پھر مزید جستجواُن میں پیدا ہوئی اور پھر وہ احمدیت کے قریب لے آئی۔تو یہ بات ہر احمدی کے لئے باعث توجہ ہے کہ نئے آنے والوں کو احمدیت کی آغوش میں روحانی سکون ملتا ہے اور اس کے لئے ہمیں جو پرانے احمدی ہیں اُن کو بھی اپنے اوپر نظر رکھنی ہوگی۔اگر پرانے احمدیوں نے اور خاص طور پر پاکستانی احمدی جو باہر آباد ہیں ، انہوں نے اپنی ذمہ داری کو ادا نہ کیا تو ان سچ کے متلاشیوں کو وہ دین سے دور کرنے والے ہوں گے اور وہ کردار ادا کر رہے ہوں گے کہ ان کو دین سے دور کریں۔پس ہر احمدی کو اپنی ذمہ داری کو سمجھنا چاہئے۔ریسپشن کا میں نے ذکر کیا ہے۔اس میں میں نے اسلامی تعلیمات کے حوالے سے مختصراً مختلف پہلو بیان کئے تھے تو ایک خاتون جو مجھے سپینش لگیں ، کھانے کے بعد ملنے آئیں، سکارف وغیرہ باندھا ہوا تھا تو انہوں نے بتایا کہ میں مسلمان ہوں۔میں نے انہیں کہا آپ شکل سے تو سپینش لگتی ہیں اور یہ بھی بتایا کہ میں فلاں مسلمان تنظیم کی عہد یدار ہوں اور مجھے کہنے لگیں کہ اسلام کی خوبصورت تعلیم بڑے اچھے رنگ میں تم نے بیان کی ہے اور مجھے اس کی بڑی خوشی ہوئی ہے۔جب میں نے انہیں یہ کہا کہ آپ سپینش لگتی ہیں تو مولوی کرم الہی صاحب ظفر جو پرانے مبلغ تھے ، ان کے ایک بیٹے جو میرے ساتھ کھڑے تھے، اُنہوں نے کہا کہ سپینش ہی ہیں اور اب انہوں نے اسلام قبول کیا ہے۔انہوں نے لفظ Convert ہوئی ہیں، استعمال کیا تھا۔تو وہ خاتون فوراً بولیں کہ نہیں، میں Convert نہیں ہوئی بلکہ میں اپنے دین میں، اپنے باپ دادا کے دین میں دوبارہ واپس آئی ہوں۔تو یہاں ایسے بہت سے لوگ ہیں جن کو اپنے آباؤ اجداد کے دین اور اپنی بنیادوں اور اپنی روٹس (Roots) کی تلاش ہے۔پس ہمیں ایسے علاقوں میں، ایسے لوگوں میں بہت کوشش سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔لیکن بار بار میں کہہ رہا ہوں کہ اگر اس کام میں برکت ڈالنی ہے تو اپنی حالتوں کو خدا تعالیٰ