خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 202
خطبات مسرور جلد 11 202 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 مارچ 2013ء ساتھ صرف اپنے تک محدودنہ رکھا، بلکہ اپنی اولا داور نسلوں تک وسیع کیا۔پس یہ ہے دعا کا طریق اور یہ ہے ترقی کرنے والی اور نسل در نسل کامیابیوں سے ہمکنار ہوتے چلے جانے کی سوچ اور فکر ، اور یہ فکر اور سوچ ہوگی تو انشاء اللہ تعالیٰ ہماری کامیابیاں ہی کامیابیاں ہیں۔اور پھر یہ دعا ہو کہ ہماری ذریت کو بھی نیکیوں پر قائم رکھ تب اس گھر کی آبادی کا مقصد حاصل ہوگا۔ہمیں یہ دعا بھی کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہماری ذریت کو بھی نیکیوں پر قائم رکھے تا کہ اس گھر کی آبادی کا مقصد ہمیشہ حاصل ہوتا چلا جائے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ قربانی کی قبولیت تب ہوگی جب حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے والے لوگ ہماری نسلوں میں سے پیدا ہوتے رہیں گے۔عبادت کرنے والے ہماری نسلوں میں سے پیدا ہوتے رہیں، اور اس طرح پر عبادت کرنے والے پیدا ہوں جس طرح اللہ تعالیٰ ہم سے چاہتا ہے اور جیسا کہ اے اللہ ! تو نے عبادت کا حکم دیا ہے اور طریق سکھایا ہے۔پس ہم یہ دعا کریں جو دعا انبیاء نے کی تھی کہ ہمیں بھی وہ طریق سکھا - وَآرِنَا مَنَاسگنا۔اور ہمیں اپنی عبادتوں اور قربانیوں کے طریق سکھا۔یہ دعا ہمیں بھی کرنے کی ضرورت ہے۔حقیقت یہی ہے کہ عبادتوں اور قربانیوں کے طریق اللہ تعالیٰ کی راہنمائی سے سمجھ آتے ہیں۔اس کی روح ، اس کو گہرائی میں جا کر سمجھنے کا ادراک اللہ تعالیٰ کے فضل سے پیدا ہوتا ہے۔بیشک نماز بھی عبادت کا ایک طریق ہے، مسجد میں لوگ آتے ہیں اور عبادت کرتے ہیں لیکن یہی نمازی ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اُن کی نمازیں اُن کے منہ پر ماری جاتی ہیں اور اُن کے لئے ہلاکت کا باعث بن جاتی ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کے فضل کو مانگتے ہوئے ایسی نمازیں ہمیں ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جو اُس کی نظر میں مقبول ہوں اور پھر صرف نمازیں ہی نہیں ہیں، ہر کام جو خدا تعالیٰ کے حصول کے لئے کیا جائے وہ عبادت بن جاتا ہے، چاہے وہ حقوق العباد ہوں۔پس اس روح کو سمجھنا ہمارے لئے ضروری ہے۔۔پس یہ بات بھی ہمیں یاد رکھنی چاہئے کہ عبادت کی روح کو سمجھ کر ہی ہم تو حید کے پیغام کو پھیلا سکتے ہیں اور اپنی نسلوں میں اس پیغام کو راسخ کر سکتے ہیں اور اُس کے لئے جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی ہے، نسلوں کے لئے بہت تڑپ کر دعا کرنے کی ضرورت ہے۔ہم احمدی اپنے اجلاسوں میں یہ عہد کرتے ہیں کہ ہر قربانی کے لئے تیار رہیں گے تو اس عہد کی روح کو اپنی نسلوں میں پھونکنے کی ضرورت ہے تاکہ دین کی اشاعت کے لئے قربانیاں کرنے والے گروہ پیدا ہوتے رہیں۔لیکن یہ یاد رکھنا چاہئے کہ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق قربانیوں کے طریق بھی بدلتے رہیں گے اور اس دعا وَارِنَا مَنَاسِكَنَا