خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 195 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 195

خطبات مسرور جلد 11 195 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 مارچ 2013ء سے تھی۔گو کہ تقریباً تیس سال سے زائد عرصہ کے بعد جماعت احمدیہ کو یہ مسجد بنانے کی توفیق ملی ہے اور اس عرصہ میں مسلمانوں کی اس ملک میں آمد بھی بہت زیادہ شروع ہو گئی اور انہوں نے مسجدیں بھی بنائیں لیکن بہر حال مسجد بشارت کی وجہ سے ایک راستہ کھلا۔سات سو سال بعد پہلی مسجد بنانے کی توفیق اللہ تعالیٰ نے جماعت احمد یہ ہی کو عطا فرمائی تھی۔یہاں کی اہمیت بیان کرنے سے پہلے یہ بھی بتا دوں کہ مسلمانوں کی تعداد اس وقت یہاں ایک ملین کے قریب ہے اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ 2030ء تک یعنی اگلے بیس سال میں اس میں اتی یا پچاسی فیصد اضافہ ہو کر یہ تعداد دو ملین کے قریب ہو جائے گی۔آج سے تیس سال پہلے چند ہزار تھے، جواب ایک ملین ہیں اور اب دو ملین ہو جائیں گے۔اور ان میں زیادہ تر تعداد باہر سے آنے والوں کی ہے جو نارتھ افریقہ سے آئے ہیں یعنی مرا کو، الجزائر وغیرہ سے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو پرانے مسلمان قبائل کے تھے اور جنہوں نے اپنے اسلام کو کافی لمبے عرصے تک بچا کے رکھا۔گو آج سے تقریباً سات سو سال پہلے یہ زبر دستی مسلمانوں سے عیسائی بنائے گئے تھے یا اُن کے بچے عیسائی بنائے گئے تھے۔ان قبیلوں اور خاندانوں میں سے بھی ہزاروں کی تعداد میں دوبارہ مسلمان ہوئے ہیں۔پس پین میں گو اسلام دوبارہ نظر آتا ہے اور اللہ کے فضل سے کافی تعداد میں مسلمان نظر آتے ہیں اور جیسا کہ میں نے کہا، اس کی ابتدا جماعت احمدیہ کے ذریعہ سے ہوئی ہے۔لیکن حقیقی اسلام اُس وقت نظر آئے گا جب مسیح محمدی کے غلام اپنی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس کی طرف توجہ کریں گے اور اسلام کے خوبصورت پیغام کو یہاں کے ہر فرد تک پہنچانے کی کوشش کریں گے۔شاید میری بات سن کر بعض لوگ آپ میں سے جو مایوس سوچیں رکھنے والے ہیں، کہیں گے کہ یہاں احمدی بہت تھوڑی تعداد میں ہیں، ہم کس طرح ہر ایک کو اور ہر جگہ یہ پیغام پہنچاسکتے ہیں۔لیکن اگر ایک عزم اور ہمت سے کوشش ہو تو جس تعداد میں ہیں وہی ایک اچھے حصہ تک پیغام احمدیت اور حقیقی اسلام پہنچاسکتی ہے۔باوجود بار بار کہنے کے اس کے لئے پلانگ نہیں ہوئی اور پھر کوشش نہیں ہوئی، اور اسی وجہ سے جو مقصد ہم حاصل کر سکتے تھے وہ حاصل نہیں کر سکے۔جو پلاننگ مرکز نے دی، یا میں نے دی یا مجھ سے پہلے حضرت خلیفتہ اسیح الرابع نے دی، اُس پر عمل نہیں ہوا۔مسجد بشارت ایسی جگہ واقع ہے جہاں سے یہ قرطبہ اور اگلے علاقوں میں جانے والوں کو نمایاں نظر آتی ہے، عین موٹر وے پر واقع ہے اور اگر تعارف کا کوئی ذریعہ نکالا جاتا تو بہت سے لوگوں تک یہ تعارف پہنچتا۔اچھا کام کرنے والی بعض جماعتوں نے کم تعداد میں ہونے کے باوجود غیر معمولی طور پر جماعت احمد یہ