خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 162 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 162

خطبات مسرور جلد 11 162 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 8 مارچ 2013ء دوسرا جنازہ جو ہے وہ جماعت کے ایک دیرینہ خادم مکرم ڈاکٹر سید سلطان محمود شاہد صاحب کا ہے جن کی 3 1 مارچ 2013ء کو نوے سال کی عمر میں وفات ہوئی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ 16 اکتوبر 1923ء کو شاہ مسکین ضلع شیخوپورہ میں پیدا ہوئے۔اور ان کے والد حضرت سید سردار احمد شاہ صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔انہوں نے آپ کو پیدائش سے پہلے ہی وقف کر دیا تھا۔آپ نے اسلامیہ کالج لاہور سے بی ایس سی کرنے کے بعد 1946ء میں مسلم یو نیورسٹی علی گڑھ سے ایم ایس سی کیمسٹری کا امتحان پاس کیا۔ایم ایس سی کرنے کے فوراً بعد حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت مصلح موعود نے کیمسٹری کے لیکچرار کے طور پر تعلیم الاسلام کالج قادیان میں ان کا تقرر کر دیا۔اور ان کو یہ شرف بھی حاصل تھا کہ کالج کے ابتدائی اساتذہ میں سے تھے۔ہجرت کے بعد یہ پہلے لاہور اور پھر جب ٹی آئی کالج ربوہ منتقل ہوا ہے تو وہاں تدریسی فرائض انجام دیتے رہے۔1956ء میں آپ یہاں لندن آئے اور 1958ء میں یونیورسٹی آف لندن سے آرگینک کیمسٹری میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ربوہ واپسی پر ٹی آئی کا لج ربوہ میں 1963 ء تک کیمسٹری پڑھاتے رہے۔1963ء میں پھر آپ لندن آئے اور 1964ء میں لندن یونیورسٹی سے پوسٹ ڈاکٹریٹ کیا۔رائل انسٹیٹیوٹ آف کیمیکل سوسائٹی کے فیلو بنے اور اسی طرح 64ء سے 78 ء تک تعلیم الاسلام کا لج ربوہ میں پروفیسر، ہیڈ آف کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ اور کچھ عرصہ تک انچارج پر نسپل کے طور پر کام کیا۔1972ء میں جب کالج اور جماعت کے تعلیمی ادارے حکومت نے زبردستی لے لئے تو پھر ان کی وہاں سے گورنمنٹ کالج راولپنڈی ٹرانسفر کر دی گئی۔پھر دوسرے دو کالجوں میں پرنسپل رہے۔بہر حال 1986ء میں یہ ریٹائر ہوئے۔اس کے بعد انہوں نے ربوہ کے تعلیمی اداروں کی حالت دیکھتے ہوئے اپنے سکول کھولے، پرائمری سکول بھی اور نرسری سکول بھی اور ہائی سکول بھی۔اور کافی دیر تک جب تک کہ جماعت کے سکول دوبارہ وہاں نہیں کھلے ان کے سکول بڑا اچھا کام کرتے رہے اور بچوں کو سنبھالتے رہے ہیں۔ڈاکٹر صاحب انتہائی سادہ ہمدردطبیعت کے مالک تھے ضرورتمندوں کی خدمت کرنے والے، اُن کی مدد کرنے والے تھے۔جو تعلیم نہیں حاصل کر سکتے تھے اُن کی تعلیم میں مدد کرتے تھے۔ہر ایک کے ساتھ بڑا پیار و محبت کا سلوک تھا۔مشورے بڑے مخلصانہ اور بڑے صائب ہوتے تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے وقت میں جامعہ نصرت کالج برائے خواتین ربوہ میں سائنس بلاک کی تعمیر بھی آپ نے فرمایا تھا تو شاہ صاحب نے ہی کروائی تھی۔قیام پاکستان کے بعد آپ سیکرٹری اصلاح وارشاد لاہور مقرر ہوئے۔56 ء تا 58 لندن میں خدام الاحمدیہ کے قائد بھی رہے ہیں۔