خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 158
خطبات مسرور جلد 11 158 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 8 مارچ 2013ء ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی ہے کہ ہمیں بھولنے اور خطا کرنے سے بچا۔لیکن یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک اہم کام ہے، انسان کو تو علم نہیں کہ کونسا اہم ہے اور کونسا نہیں ، اس کے نہ کرنے سے ہماری روحانی ترقی میں فرق آ سکتا ہے، ہمارے خدا تعالیٰ سے تعلق میں فرق آ سکتا ہے۔پس اے اللہ تو ہمیں ایک تو ایسی غلطیاں کرنے سے بچا۔دوسرے اگر غلطیاں ہو گئی ہیں تو اس پر پکڑ نہ کر۔اسی طرح کسی کام کے غلط طریق سے کرنے سے یا ایسا کام کرنے سے جو ہمیں نہیں کرنا چاہئے، ہمیں پکڑ میں نہ لے۔ہمارا مؤاخذہ نہ کر۔بلکہ ہماری خطاؤں کو معاف فرما اور معاف فرماتے ہوئے اُن کے بداثرات سے اور اپنی ناراضگی سے ہمیں بچالے۔لیکن اگر ہم جان بوجھ کر ایک غلط کام کرتے جائیں یا غلط طریق پر کرتے چلے جائیں۔اپنی اصلاح کی طرف کوشش نہ کریں اور پھر یہ دعا بھی مانگتے ہیں تو پھر یہ دعا نہیں ہوگی بلکہ اللہ تعالیٰ اور دعا کے ساتھ ایک مذاق بن جائے گا۔پس دعا ئیں بہتر نتائج کے لئے ہوتی ہیں نہ کہ خدا تعالیٰ کو آزمانے کے لئے۔اس لئے جہاں اپنے عمل ہوں گے وہیں دعا بھی حقیقی دعا بنے گی۔اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اُس پر اُس کو کمال تک پہنچاؤ۔پھر آتا ہے : رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِنَا۔یعنی ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جو پہلوں پر ڈالا گیا اور اُس کی وجہ سے انہیں سزا ملی۔یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اس کا نمازیں پڑھنے یا قرآن کریم کے جو احکامات ہیں ان سے اس کا تعلق نہیں۔اس میں یہ نہیں کہا کہ یہ ہمارے غیر معمولی بوجھ ہیں۔خدا تعالیٰ نے تو پہلے ہی فرما دیا۔لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا کہ اللہ تعالیٰ اپنے احکامات انسان کی طاقت اور وسعت کے مطابق دیتا ہے۔اس بوجھ نہ ڈالنے کے یہ معنی ہیں کہ بعض جرموں کی وجہ سے پہلے لوگوں کو سزائیں دی گئیں، وہ سزائیں ہم پر نازل نہ ہوں۔اور ہم سے وہ غلطیاں سرزد نہ ہوں جو پہلے لوگوں سے سرزد ہو ئیں اور وہ تباہ ہو گئے۔اگر ہم غلطیاں بھی کرتے رہیں اور پھر کہیں کہ ہمیں سزا بھی نہ ملے جو پہلوں کو ملی تو یہ تو نہیں ہوسکتا۔یہ اللہ کے عمومی قانون کے خلاف ہے۔پس یہ دعا اور ساتھ برے اعمال سے بچنے کی کوشش ہی انسان کو اُس سزا سے بچاتی ہے۔پہلے لوگوں کی خطاؤں کی وجہ سے اُن پر ایسی حکومتیں مسلط کر دی گئیں جو اُن کے حقوق کا خیال نہیں رکھتی تھیں۔پس ہمیں ایسے حکمرانوں سے بچا جو ہمارے لئے سز ا بن گئے ہیں اور تیری ناراضگی کی وجہ سے یہ سزا ہم پر مسلط ہے۔اگر تو ناراضگی کی وجہ سے ہے تو بہت زیادہ درد سے دعائیں کرنے کی ضرورت ہے۔اگر یہ صرف امتحان ہے تو اس امتحان کو بھی ہم سے ہلکا کر دے۔۔