خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 8 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 8

خطبات مسرور جلد 11 8 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 4 جنوری 2013ء پر ہو جا تا تھا۔لیکن جب سے میں نے چندہ دینا شروع کیا ہے۔اُس وقت سے وہ اور اس کے بیوی بچے صحت کے ساتھ ہیں اور کم بیمار ہوتے ہیں اور ادویات کا خرچ بہت کم ہو گیا ہے۔یہ سب چندہ کی برکت ہے۔امیر صاحب یوگنڈا لکھتے ہیں کہ یوگنڈا میں احباب جماعت مالی قربانی کے میدان میں غیر معمولی طور پر آگے بڑھ رہے ہیں۔ہمارے ایک مخیر دوست سلیمان مغابی صاحب امبالہ کے رہنے والے ہیں اور مالی قربانی اور چندوں میں پیش پیش ہیں۔انہوں نے نو مبائعین کے علاقوں میں دو خوبصورت مساجد کی تعمیر اور ایک علاقہ میں سکول کے ایک مکمل بلاک کی تعمیر کے لئے پچاس ملین شلنگ کی بہت بڑی رقم کی قربانی کی۔ان کو آغاز میں ایک مسجد کی تعمیر کے لئے کہا گیا تھا۔یہ خود بیان کرتے ہیں کہ جب سے میں نے مالی قربانی شروع کی ہے۔مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ کس طرح اور کہاں سے خدا مجھے دے رہا ہے۔امیر صاحب گیمبیا لکھتے ہیں کہ ایک دوست الحاج Abdullah Balajo ( عبداللہ بلا جو ) صاحب، جو پہلے سے چندہ وقف جدید ادا کر چکے تھے، جب ان کو دوبارہ تحریک کی گئی تو انہوں نے پہلے سے بڑھ کر چندہ ادا کر دیا۔بعد میں جب انہیں یاد آیا کہ انہوں نے دو دفعہ چندہ دے دیا ہے تو اس پر بڑی خوشی سے کہا کہ یہ خلیفہ وقت کی بابرکت تحریک ہے، اس میں جتنا بھی دوں کم ہے۔لیو ( Leo) ریجن بورکینا فاسو کے مبلغ لکھتے ہیں کہ 10 اگست 2012ءکو Baacoungou Adama ( با کونگو آدما) نامی ایک بزرگ صبح سویرے مشن ہاؤس میں آگئے اور بتایا کہ روزانہ با قاعدگی سے ریڈیو احمد یہ سنتا ہوں اور میرے گھر میں صرف یہی سٹیشن آن (on) رہتا ہے۔جس قدر یہ ریڈیو اسلام کی خدمت کر رہا ہے اس کا الفاظ میں احاطہ ممکن نہیں۔میں شکر گزاری کے طور پر اور تو کچھ نہیں کرسکتا صرف اس چھوٹی سی رقم سے ریڈیو کی خدمت کرنا چاہتا ہوں۔اس بزرگ نے ایک لاکھ فرانک سیفا نکال کر بطور چندہ دیا جو خصوصاً کھیتی باڑی کرنے والوں کے لئے بہت مشکل ہوتا ہے۔اس بزرگ کو جماعتی چندوں کا نظام سمجھایا گیا اور پھر ادا شدہ چندے کی رسید دی ( یہ ابھی تک احمدی نہیں تھے۔غیر احمد یوں پر اس کا اثر ہو جاتا ہے۔تو کہتے ہیں کہ کیونکہ آپ لوگ اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں،اس لئے میں دے رہا ہوں۔خیر اُس کے بعد جب ان کو چندے کا نظام سمجھایا اور رسید بھی دی تو کہتے ہیں کہ احمدیت کی سچائی میرے دل میں گھر کر گئی ہے۔کیونکہ میں نے اللہ کی راہ میں چندے تو بہت دیے ہیں لیکن چندہ کا ایسا شفاف نظام احمدیت کے سوا اور کہیں نہیں دیکھا۔بینن سے لوکل معلم ذکر یا رائگی صاحب بیان کرتے ہیں کہ Ekpe گاؤں کے گار با ابراہیم