خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 131 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 131

خطبات مسرور جلد 11 131 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 فروری 2013ء دکھائے مگر پادری صاحب اپنی نیش زنی سے باز نہیں آسکے۔اُن دنوں میں ابھی قادیان میں بھی ٹاؤن کمیٹی نہیں بنی تھی اور گلیوں میں بہت گند پڑا رہتا تھا۔پادری زویمر باتوں باتوں میں ہنس کر کہنے لگا کہ ہم نے قادیان بھی دیکھ لیا اور نئے مسیح کے گاؤں کی صفائی بھی دیکھ لی۔ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب اُسے ہنس کر کہنے لگے۔پادری صاحب! ابھی پہلے مسیح کی حکومت ہندوستان پر ہے اور یہ اُس کی صفائی کا نمونہ ہے۔نئے مسیح کی حکومت قائم نہیں ہوئی۔اس پر وہ شرمندہ ہوا۔پھر حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ انہوں نے مجھے پیغام بھیجا کہ ہم ملنا چاہتے ہیں۔طبیعت میری ٹھیک نہیں تھی بہر حال کہتے ہیں میں نے مل لیا۔پادری زویمر کہنے لگے کہ میں ایک دوسوال کرنا چاہتا ہوں۔میں نے کہا فرمائیے۔کہنے لگے اسلام کا عقیدہ تناسخ کے متعلق کیا ہے؟ آیا وہ اس مسئلہ کو مانتا ہے یا اس کا انکار کرتا ہے۔جونہی اُس نے یہ سوال کیا۔معا اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈال دیا کہ اس کا سوال سے منشاء یہ ہے کہ تم جو مسیح موعود کو سیح ناصری کا بروز اور اس کا مثیل کہتے ہو تو آیا اس سے یہ مطلب ہے کہ مسیح ناصری کی روح اُن میں آ گئی ہے۔اگر یہی مطلب ہے تو یہ تناسخ ہوا اور تناسخ کا عقیدہ قرآن کریم کے خلاف ہے۔چنانچہ میں نے اُن سے ہنس کر کہا۔پادری صاحب! آپ کو غلطی لگی ہے۔ہم یہ نہیں سمجھتے کہ مرزا صاحب میں مسیح ناصری کی روح آ گئی ہے بلکہ ہم ان معنوں میں آپ کو مسیح ناصری کا مثیل کہتے ہیں کہ آپ مسیح ناصری کے اخلاق اور روحانیت کے رنگ میں رنگین ہو کر آئے ہیں۔میں نے جب یہ جواب دیا تو کہنے لگا کہ آپ کو کس نے بتایا کہ میرا یہ سوال ہے؟ ( سوال تو Indirect اور طرح تھا) بہر حال کہنے لگا کہ میرا منشاء یہی معلوم کرنا تھا کہ آپ کس طرح کہتے ہیں۔پھر کہا کہ میں نے اُس سے کہا کہ تمہارا دوسرا سوال کیا ہے؟ کہنے لگے کہ دوسرا سوال یہ ہے کہ نبی کی بعثت کیسے مقام پر ہونی چاہئے۔یعنی اُس کو اپنا کام سرانجام دینے کے لئے کس قسم کا مقام چاہئے۔جونہی اُس نے یہ دوسرا سوال کیا۔معا دوبارہ خدا تعالیٰ نے میرے دل میں یہ بات ڈال دی کہ اس سوال سے اُس کا یہ منشاء ہے کہ قادیان ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔یہ دنیا کا مرکز کیسے بن سکتا ہے؟ اور اس چھوٹے سے مقام سے ساری دنیا میں تبلیغ کس طرح کی جاسکتی ہے؟ اگر حضرت مرزا صاحب کی بعثت کا مقصد ساری دنیا میں اسلام کی تبلیغ پہنچانا ہے تو آپ کو ایسی جگہ بھیجنا چاہئے تھا جہاں سے ساری دنیا میں آواز پہنچ سکتی ، نہ یہ کہ قادیان جو ایک چھوٹا سا گاؤں ہے، اُس میں آپ کو بھیج دیا۔غرض اللہ تعالیٰ نے اس سوال کے معا بعد یہ بات میرے دل میں ڈال دی اور میں نے پھر اس کو مسکرا کر کہا کہ پادری صاحب! ناصرہ یا ناصرۃ سے بڑا کوئی شہر ہو، وہاں نبی آ سکتا ہے، حضرت مسیح ناصری