خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 7 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 7

خطبات مسرور جلد 11 7 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 4 جنوری 2013ء برکتیں اُسی مالی قربانی کی تھیں جو خلیفہ وقت کے توجہ دلانے کے نتیجہ میں میں نے خدا کی راہ میں کی تھیں۔اب ( دیکھ لیں کہ ) نئے نئے احمدیوں کو بھی اللہ تعالیٰ کس طرح ایمانوں میں مضبوط کرتا ہے۔بورکینا فاسو کے ریجن کے دڈ گو کے مبلغ لکھتے ہیں کہ اس ریجن کے ایک گاؤں نو کی با دالا ( Noki Badala) کے صدر جماعت Diallo Sita (دیالوسیتا) صاحب کہتے ہیں کہ وہ کا شتکار لوگ ہیں اور احمدیت میں داخل ہونے سے پہلے بھی وہ کاشتکاری کرتے تھے۔مگر اتنی فصل کبھی نہیں ہوئی جتنی احمدیت میں داخل ہونے کے بعد ہورہی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے اور وہ چندہ ہے۔جب سے ہم احمدیت میں داخل ہوئے ہیں اور چندہ دینا شروع کیا ہے تو ہمارے حالات ہی بدل گئے ہیں۔اور جب سے چندہ دینا شروع کیا ہے ہماری فصلوں میں اتنی برکت پڑی ہے کہ آج سے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ان کا کہنا ہے کہ چندہ کی اتنی برکت پڑی کہ آغاز میں پہلے ایک یا زیادہ سے زیادہ دو بوری اناج چندہ دیا کرتے تھے۔اور اس سال سات بوری دیا۔مولوی کہتے ہیں کہ یہ غریبوں کو پیسے دے کے افریقہ میں اور غریب ملکوں میں احمدی بناتے ہیں۔جماعت نے کیا پیسے دینے ہیں، ان کا یہ حال دیکھیں کہ کس طرح خود قربانی کر کے اپنے چندے بڑھا رہے ہیں۔امیر صاحب مالی تحریر کرتے ہیں کہ ہمارے ایک معلم عبد القادر صاحب نے بتایا کہ جماعت Sonitigla سونیت گلا ) میں ہر سال احمدی خواتین اور احمدی مرد چندہ کے لئے الگ الگ کھیت کاشت کرتے ہیں۔(اپنا جو فارم ہے، کھیت ہے، اُس کے علاوہ چندہ دینے کے لئے مرد اپنی اور عورتیں اپنی علیحدہ ایک فصل لگاتی ہیں کہ جو بھی آمد ہوگی یہ ساری کی ساری ہم نے جماعت کو چندے میں دینی ہے۔) کہتے ہیں 2011ء میں جب فصل کٹائی کے بعد چندہ لینے کے لئے وہاں گئے تو مردوں اور عورتوں نے الگ الگ چندہ جمع کروایا۔جب بوریوں کی گنتی کی گئی تو مردوں کا چندہ تھوڑا سا زیادہ تھا۔کہتے ہیں کہ یہ بوریاں یا جنس جب لوڈ کر لیا گیا تو عورتوں نے کہا ٹھہر جائیں، ابھی نہ جائیں۔وہ اپنے گھر واپس گئیں اور انہوں نے مزید دو بوریاں جمع کیں کیونکہ ڈیڑھ بوری یا شاید آدھی بوری مردوں کی زیادہ تھی۔اور وہ کسی بھی صورت مردوں سے پیچھے نہیں رہنا چاہتیں۔اس طرح انہوں نے مردوں سے ڈیڑھ بوری زائد چندہ جمع کروادی۔امیر صاحب مالی لکھتے ہیں کہ ایک نومبائع سیعد وتر اورے صاحب جنہوں نے چھ سات ماہ قبل بیعت کی اور ساتھ دس ہزار فرانک سیفا چندہ دیا۔جب ہمارے معلم دوبارہ گئے تو انہوں نے بتایا کہ بیعت کرنے اور چندہ دینے سے پہلے وہ اور اس کے بیوی بچے اکثر بیمار رہتے تھے اور ہمارا بہت سارا خرچ ادویات